Poetry
- آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیںمیرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیںSabeenSaif
- اک بے ہنر ہوں اور ہنر چاہتی ہوں میںاب دھوپ کے سفر میں شجر چاہتی ہوں میںSabeenSaif
- بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہیگفتگو آگے بڑھائیں تو سہیSabeenSaif
- بہت قریب تھا پر مہرباں نہ تھا میرابھری بہار میں اک آشیاں نہ تھا میراSabeenSaif
- پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوابت کوئی میرا خدا کیسے ہواSabeenSaif
- تجھے بھلانے کی اب جستجو نہیں کرتےکہ اب کسی سے تری گفتگو نہیں کرتےSabeenSaif
- تمہارے خواب کی تعبیر ہو جاؤں اجازت ہےمحبت کی میں اک تصویر ہو جاؤں اجازت ہےSabeenSaif
- جن کے ہاتھوں میں سر ہمارے ہیںوہ ہمیں جان سے بھی پیارے ہیںSabeenSaif
- روشنی بن کر بکھرنے کے لیےزندگی ہے عشق کرنے کے لیےSabeenSaif
- عشق نے میرے جسے القاب کا دفتر دیااس نے سونے کو مجھے کانٹوں بھرا بستر دیاSabeenSaif
- عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتاہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتاSabeenSaif
- کب دیا یہ جلا ہوا کے لیےعشق ہوتا نہیں فنا کے لیےSabeenSaif
- لکھا تھا نام جو اک شام کورے کاغذ پروہ نام کیوں ہوا بدنام کورے کاغذ پرSabeenSaif
- میرا کتنا خیال کرتے ہوسانس لینا محال کرتے ہوSabeenSaif
- میری جب اس سے آشنائی تھیمیرے ہم راہ اک خدائی تھیSabeenSaif
- یاد تیری دلا رہے ہیں مجھےچاند تارے جلا رہے ہیں مجھےSabeenSaif
- میں حسیں ہوں مگراس قدر بھی نہیںSabeenSaif