Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوںاے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوںParveen Shakir (1952–1994)
  2. اب اتنی سادگی لائیں کہاں سےزمیں کی خیر مانگیں آسماں سےParveen Shakir (1952–1994)
  3. اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتےشام کے وقت سفر کیا کرتےParveen Shakir (1952–1994)
  4. اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرےکون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرےParveen Shakir (1952–1994)
  5. اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوںاک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوںParveen Shakir (1952–1994)
  6. اپنی ہی صدا سنوں کہاں تکجنگل کی ہوا رہوں کہاں تکParveen Shakir (1952–1994)
  7. اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہےچلی چلوں گی جہاں تک یہ ساتھ رہتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  8. اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہےکنکر سا کوئی کھٹک رہا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  9. اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھامجھ میں تیرا جمال تھا کیا تھاParveen Shakir (1952–1994)
  10. اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوامگر یہ دل تری جانب سے صاف بھی نہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
  11. الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کیہم نے تو بس ہوا کے تعلق سے بات کیParveen Shakir (1952–1994)
  12. ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھاآنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھاParveen Shakir (1952–1994)
  13. باب حیرت سے مجھے اذن سفر ہونے کو ہےتہنیت اے دل کہ اب دیوار در ہونے کو ہےParveen Shakir (1952–1994)
  14. بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنامیں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھناParveen Shakir (1952–1994)
  15. بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئےموسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئےParveen Shakir (1952–1994)
  16. بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیںشکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیںParveen Shakir (1952–1994)
  17. بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھااس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھاParveen Shakir (1952–1994)
  18. بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےیہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہےParveen Shakir (1952–1994)
  19. بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کےہماری زندگی برباد کر کےParveen Shakir (1952–1994)
  20. پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کونParveen Shakir (1952–1994)
  21. پورا دکھ اور آدھا چاندہجر کی شب اور ایسا چاندParveen Shakir (1952–1994)
  22. تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہےپھر موسم بہار مرے گلستاں میں ہےParveen Shakir (1952–1994)
  23. تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیاہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیاParveen Shakir (1952–1994)
  24. تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھیجی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھیParveen Shakir (1952–1994)
  25. تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھParveen Shakir (1952–1994)
  26. تیری خوشبو کا پتا کرتی ہےمجھ پہ احسان ہوا کرتی ہےParveen Shakir (1952–1994)
  27. ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیابجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیاParveen Shakir (1952–1994)
  28. جب ساز کی لے بدل گئی تھیوہ رقص کی کون سی گھڑی تھیParveen Shakir (1952–1994)
  29. جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہےچاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہےParveen Shakir (1952–1994)
  30. جگا سکے نہ ترے لب لکیر ایسی تھیہمارے بخت کی ریکھا بھی میرؔ ایسی تھیParveen Shakir (1952–1994)
  31. جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھاکسی بھی رت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھاParveen Shakir (1952–1994)
  32. چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتیتیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتیParveen Shakir (1952–1994)
  33. چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیاہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیاParveen Shakir (1952–1994)
  34. چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیاعشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیاParveen Shakir (1952–1994)
  35. حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہےباب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  36. خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوںتری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
  37. خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسمبچھڑ گیا تری صورت بہار کا موسمParveen Shakir (1952–1994)
  38. دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہےتری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہےParveen Shakir (1952–1994)
  39. دکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا آہستہاے خدا اب کے چلے زرد ہوا آہستہ آہستہParveen Shakir (1952–1994)
  40. دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملناوہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملناParveen Shakir (1952–1994)
  41. دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گاوہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گاParveen Shakir (1952–1994)
  42. دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پربرف جب پگھلتی ہے اس کی نرم پلکوں پرParveen Shakir (1952–1994)
  43. ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئےمیں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیےParveen Shakir (1952–1994)
  44. رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھیسائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھیParveen Shakir (1952–1994)
  45. رکنے کا سمے گزر گیا ہےجانا ترا اب ٹھہر گیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  46. رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میںشب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میںParveen Shakir (1952–1994)
  47. رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائےوصل کا خواب مکمل ہو جائےParveen Shakir (1952–1994)
  48. زندگی بے سائباں بے گھر کہیں ایسی نہ تھیآسماں ایسا نہیں تھا اور زمیں ایسی نہ تھیParveen Shakir (1952–1994)
  49. سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئیمرے وجود پر تری گواہی اور ہو گئیParveen Shakir (1952–1994)
  50. سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئیدلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئیParveen Shakir (1952–1994)