Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بے اثر آرزو بے اثر ہے دعابا اثر ہے فقط ایک اس کی رضاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  2. جب اسے گردش ایام نے مارا ہوگااے مصیبت میں کسے اس نے پکارا ہوگاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  3. چھیڑتی ہے وہ نظر اب مرے دل کو ایسےکسی جراح کی پھوڑے یہ جراحت جیسےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  4. حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہےزمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  5. خود عرش بریں کو بھی جھکتے ہوئے پایا ہےسر جب بھی کبھی ہم نے سجدے میں جھکایا ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  6. دل سنبھلتے سنبھلتے سنبھل جائے گاغم مسرت کے سانچے میں ڈھل جائے گاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  7. دیر و کعبہ کی عظمت مسلم مگرمے کدہ بھی خدا ہی کے گھر سا لگےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  8. زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئیموت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئیOm Prakash Laghar (b. 1924)
  9. ستائش سے ہوتے نہیں شادماںملامت سے ہم تلملاتے نہیںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  10. کسی منزل پہ بھی ظلم و ستم سے ڈر نہیں سکتاکہ میں سجدہ کبھی باطل کے آگے کر نہیں سکتاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  11. کمال ذوق سجدہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگاوہیں وہ نقش پا ابھرا جہاں رکھ دی جبیں میں نےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  12. کہیں ساون میں بادل جھوم کر آیا نہیں اب تککسی نے گیت بھی ملہار کا گایا نہیں اب تکOm Prakash Laghar (b. 1924)
  13. مصیبت میں کسی کو مبتلا کوئی نہیں کرتابرے اعمال سے یہ اپنے سر خود لائی جاتی ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  14. مقدر کی کیوں ہم شکایت کریںجو مل جائے اس پر قناعت کریںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  15. نہ کر پائے دشمن بھی جو دشمنی میںکیا ہے رفیقوں نے وہ دوستی میںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  16. یہ دنیا ظاہراً شہ کاری سی معلوم ہوتی ہےبہ باطن یہ ہمیں بے کار سی معلوم ہوتی ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  17. یہ ہر اک شخص کے اپنے تصور اور گماں تک ہےکسے معلوم ہے ورنہ حد عرفاں کہاں تک ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)