Poetry
- بے اثر آرزو بے اثر ہے دعابا اثر ہے فقط ایک اس کی رضاOm Prakash Laghar (b. 1924)
- جب اسے گردش ایام نے مارا ہوگااے مصیبت میں کسے اس نے پکارا ہوگاOm Prakash Laghar (b. 1924)
- چھیڑتی ہے وہ نظر اب مرے دل کو ایسےکسی جراح کی پھوڑے یہ جراحت جیسےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہےزمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- خود عرش بریں کو بھی جھکتے ہوئے پایا ہےسر جب بھی کبھی ہم نے سجدے میں جھکایا ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- دل سنبھلتے سنبھلتے سنبھل جائے گاغم مسرت کے سانچے میں ڈھل جائے گاOm Prakash Laghar (b. 1924)
- دیر و کعبہ کی عظمت مسلم مگرمے کدہ بھی خدا ہی کے گھر سا لگےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئیموت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئیOm Prakash Laghar (b. 1924)
- ستائش سے ہوتے نہیں شادماںملامت سے ہم تلملاتے نہیںOm Prakash Laghar (b. 1924)
- کسی منزل پہ بھی ظلم و ستم سے ڈر نہیں سکتاکہ میں سجدہ کبھی باطل کے آگے کر نہیں سکتاOm Prakash Laghar (b. 1924)
- کمال ذوق سجدہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگاوہیں وہ نقش پا ابھرا جہاں رکھ دی جبیں میں نےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- کہیں ساون میں بادل جھوم کر آیا نہیں اب تککسی نے گیت بھی ملہار کا گایا نہیں اب تکOm Prakash Laghar (b. 1924)
- مصیبت میں کسی کو مبتلا کوئی نہیں کرتابرے اعمال سے یہ اپنے سر خود لائی جاتی ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- مقدر کی کیوں ہم شکایت کریںجو مل جائے اس پر قناعت کریںOm Prakash Laghar (b. 1924)
- نہ کر پائے دشمن بھی جو دشمنی میںکیا ہے رفیقوں نے وہ دوستی میںOm Prakash Laghar (b. 1924)
- یہ دنیا ظاہراً شہ کاری سی معلوم ہوتی ہےبہ باطن یہ ہمیں بے کار سی معلوم ہوتی ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- یہ ہر اک شخص کے اپنے تصور اور گماں تک ہےکسے معلوم ہے ورنہ حد عرفاں کہاں تک ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)