Poetry
- اب تو فراق صبح میں بجھنے لگی حیاتبار الٰہ کتنے پہر رہ گئی ہے راتObaidullah Aleem (1939–1998)
- اب تو ہو کسی رنگ میں ظاہر تو مجھے کیاٹھہرے ترے گھر کوئی مسافر تو مجھے کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھیلیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھیObaidullah Aleem (1939–1998)
- ایک میں بھی ہوں کلہ داروں کے بیچمیرؔ صاحب کے پرستاروں کے بیچObaidullah Aleem (1939–1998)
- باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہےہر دھوپ میں جو مجھے سایا دے وہ سچا سایا گھر میں ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخصہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخصObaidullah Aleem (1939–1998)
- پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگمحفل وقت تری روح رواں ہیں ہم لوگObaidullah Aleem (1939–1998)
- تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپدونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چپObaidullah Aleem (1939–1998)
- تیرے پیار میں رسوا ہو کر جائیں کہاں دیوانے لوگجانے کیا کیا پوچھ رہے ہیں یہ جانے پہچانے لوگObaidullah Aleem (1939–1998)
- جو اس نے کیا اسے صلہ دےمولا مجھے صبر کی جزا دےObaidullah Aleem (1939–1998)
- چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سبمیں لفظ ہوا مجھ میں ہی زنجیر ہوئے سبObaidullah Aleem (1939–1998)
- خواب ہی خواب کب تلک دیکھوںکاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوںObaidullah Aleem (1939–1998)
- خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسیلہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسیObaidullah Aleem (1939–1998)
- دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ متجو ہو گئے ہو فسانہ تو یاد آؤ متObaidullah Aleem (1939–1998)
- دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیاتم بھی تو بے اماں ہوئے ہم کو ستا لیا تو کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیےتو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیےObaidullah Aleem (1939–1998)
- سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنایہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھناObaidullah Aleem (1939–1998)
- شکست جاں سے سوا بھی ہے کار فن کیا کیاعذاب کھینچ رہا ہے مرا بدن کیا کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہےیہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- صاحب مہر و وفا ارض و سما کیوں چپ ہےہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میںوہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا میںObaidullah Aleem (1939–1998)
- کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہواکس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیامیں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- کمال آدمی کی انتہا ہےوہ آئندہ میں بھی سب سے بڑا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئےتھے گدا تحفۂ نایاب اٹھا کر لے آئےObaidullah Aleem (1939–1998)
- گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میںسمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں میںObaidullah Aleem (1939–1998)
- مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دےمیں چپ رہوں بھی تو نغمہ مرا سنائی دےObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں جس میں کھو گیا ہوں مرا خواب ہی تو ہےیک دو نفس نمود سہی زندگی تو ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں کیسے جیوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہویہ آتے جاتے رنگ نہ ہوں اور لفظوں کی تنویر نہ ہوObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیںمرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیںObaidullah Aleem (1939–1998)
- نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئےچراغ خود کو نہیں دیکھتا ہے جلتے ہوئےObaidullah Aleem (1939–1998)
- وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہےایک دنیا ہے اکیلی تو ہی تنہا کیا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- وہ خواب خواب فضائے طرب نہیں آئیعجیب ہی تھی وہ شب پھر وہ شب نہیں آئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- وہ رات بے پناہ تھی اور میں غریب تھاوہ جس نے یہ چراغ جلایا عجیب تھاObaidullah Aleem (1939–1998)
- ویران سرائے کا دیا ہےجو کون و مکاں میں جل رہا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتےہم بہرحال بسر خواب تمہارا کرتےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہر آواز زمستانی ہے ہر جذبہ زندانی ہےکوچۂ یار سے دار و رسن تک ایک سی ہی ویرانی ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہم نے کھلنے نہ دیا بے سر و سامانی کوکہاں لے جائیں مگر شہر کی ویرانی کوObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہنسو تو رنگ ہوں چہرے کا رؤو تو چشم نم میں ہوںتم مجھ کو محسوس کرو تو ہر موسم میں ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
- یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوںابھی میں کیا کہ ابھی منزل سفر میں ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
- اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جاکہ میری آنکھوں میں اب لہو ہے نہ خواب کوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- دعا دعا وہ چہرہحیا حیا وہ آنکھیںObaidullah Aleem (1939–1998)
- سب بارشیں ہو کے تھم چکی تھیںروحوں میں دھنک اتر رہی تھیObaidullah Aleem (1939–1998)
- کبھی کبھی کوئی یادکوئی بہت پرانی یادObaidullah Aleem (1939–1998)
- مجھے خبر ہےتمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- مرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوںیہ میرا چہرہ یہ میری آنکھیںObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں بھی جھوٹا تم بھی جھوٹےآؤ چلو تنہا ہو جائیںObaidullah Aleem (1939–1998)
- آخری رات تھی وہمیں نے دل سے یہ کہاObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں خود ہی اپنی بہار سے روٹھنے لگوں گرتو تم مجھے روٹھنے نہ دیناObaidullah Aleem (1939–1998)
- پاکستان کے سارے شہرو زندہ رہو پایندہ رہوروشنیوں رنگوں کی لہرو زندہ رہو پایندہ رہوObaidullah Aleem (1939–1998)