Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب تو فراق صبح میں بجھنے لگی حیاتبار الٰہ کتنے پہر رہ گئی ہے راتObaidullah Aleem (1939–1998)
  2. اب تو ہو کسی رنگ میں ظاہر تو مجھے کیاٹھہرے ترے گھر کوئی مسافر تو مجھے کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
  3. ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھیلیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھیObaidullah Aleem (1939–1998)
  4. ایک میں بھی ہوں کلہ داروں کے بیچمیرؔ صاحب کے پرستاروں کے بیچObaidullah Aleem (1939–1998)
  5. باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہےہر دھوپ میں جو مجھے سایا دے وہ سچا سایا گھر میں ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  6. بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخصہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخصObaidullah Aleem (1939–1998)
  7. پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگمحفل وقت تری روح رواں ہیں ہم لوگObaidullah Aleem (1939–1998)
  8. تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپدونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چپObaidullah Aleem (1939–1998)
  9. تیرے پیار میں رسوا ہو کر جائیں کہاں دیوانے لوگجانے کیا کیا پوچھ رہے ہیں یہ جانے پہچانے لوگObaidullah Aleem (1939–1998)
  10. جو اس نے کیا اسے صلہ دےمولا مجھے صبر کی جزا دےObaidullah Aleem (1939–1998)
  11. چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سبمیں لفظ ہوا مجھ میں ہی زنجیر ہوئے سبObaidullah Aleem (1939–1998)
  12. خواب ہی خواب کب تلک دیکھوںکاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوںObaidullah Aleem (1939–1998)
  13. خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسیلہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسیObaidullah Aleem (1939–1998)
  14. دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ متجو ہو گئے ہو فسانہ تو یاد آؤ متObaidullah Aleem (1939–1998)
  15. دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیاتم بھی تو بے اماں ہوئے ہم کو ستا لیا تو کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
  16. زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیےتو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیےObaidullah Aleem (1939–1998)
  17. سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنایہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھناObaidullah Aleem (1939–1998)
  18. شکست جاں سے سوا بھی ہے کار فن کیا کیاعذاب کھینچ رہا ہے مرا بدن کیا کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
  19. شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہےیہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  20. صاحب مہر و وفا ارض و سما کیوں چپ ہےہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  21. عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میںوہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا میںObaidullah Aleem (1939–1998)
  22. کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہواکس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیاObaidullah Aleem (1939–1998)
  23. کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیامیں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیاObaidullah Aleem (1939–1998)
  24. کمال آدمی کی انتہا ہےوہ آئندہ میں بھی سب سے بڑا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  25. کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئےتھے گدا تحفۂ نایاب اٹھا کر لے آئےObaidullah Aleem (1939–1998)
  26. گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میںسمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں میںObaidullah Aleem (1939–1998)
  27. مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دےمیں چپ رہوں بھی تو نغمہ مرا سنائی دےObaidullah Aleem (1939–1998)
  28. میں جس میں کھو گیا ہوں مرا خواب ہی تو ہےیک دو نفس نمود سہی زندگی تو ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  29. میں کیسے جیوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہویہ آتے جاتے رنگ نہ ہوں اور لفظوں کی تنویر نہ ہوObaidullah Aleem (1939–1998)
  30. میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیںمرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیںObaidullah Aleem (1939–1998)
  31. نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئےچراغ خود کو نہیں دیکھتا ہے جلتے ہوئےObaidullah Aleem (1939–1998)
  32. وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہےایک دنیا ہے اکیلی تو ہی تنہا کیا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  33. وہ خواب خواب فضائے طرب نہیں آئیعجیب ہی تھی وہ شب پھر وہ شب نہیں آئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  34. وہ رات بے پناہ تھی اور میں غریب تھاوہ جس نے یہ چراغ جلایا عجیب تھاObaidullah Aleem (1939–1998)
  35. ویران سرائے کا دیا ہےجو کون و مکاں میں جل رہا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  36. ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتےہم بہرحال بسر خواب تمہارا کرتےObaidullah Aleem (1939–1998)
  37. ہر آواز زمستانی ہے ہر جذبہ زندانی ہےکوچۂ یار سے دار و رسن تک ایک سی ہی ویرانی ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  38. ہم نے کھلنے نہ دیا بے سر و سامانی کوکہاں لے جائیں مگر شہر کی ویرانی کوObaidullah Aleem (1939–1998)
  39. ہنسو تو رنگ ہوں چہرے کا رؤو تو چشم نم میں ہوںتم مجھ کو محسوس کرو تو ہر موسم میں ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
  40. یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوںابھی میں کیا کہ ابھی منزل سفر میں ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
  41. اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جاکہ میری آنکھوں میں اب لہو ہے نہ خواب کوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  42. دعا دعا وہ چہرہحیا حیا وہ آنکھیںObaidullah Aleem (1939–1998)
  43. سب بارشیں ہو کے تھم چکی تھیںروحوں میں دھنک اتر رہی تھیObaidullah Aleem (1939–1998)
  44. کبھی کبھی کوئی یادکوئی بہت پرانی یادObaidullah Aleem (1939–1998)
  45. مجھے خبر ہےتمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  46. مرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوںیہ میرا چہرہ یہ میری آنکھیںObaidullah Aleem (1939–1998)
  47. میں بھی جھوٹا تم بھی جھوٹےآؤ چلو تنہا ہو جائیںObaidullah Aleem (1939–1998)
  48. آخری رات تھی وہمیں نے دل سے یہ کہاObaidullah Aleem (1939–1998)
  49. میں خود ہی اپنی بہار سے روٹھنے لگوں گرتو تم مجھے روٹھنے نہ دیناObaidullah Aleem (1939–1998)
  50. پاکستان کے سارے شہرو زندہ رہو پایندہ رہوروشنیوں رنگوں کی لہرو زندہ رہو پایندہ رہوObaidullah Aleem (1939–1998)