Poetry
- آپ وہ سب کی جان لیتے ہیںموت کو مفت سان لینے ہیںنسیم بھرتپوری
- ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیںدل میں گھر کرنے کو مہمان چلے آتے ہیںنسیم بھرتپوری
- بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیںمرے سینے میں داغوں کے گلستاں ہوتے جاتے ہیںنسیم بھرتپوری
- بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میںہیں بجلیاں کہ کوند رہی ہیں سحاب میںنسیم بھرتپوری
- جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیںادھر دس پانچ بیٹھے ہیں ادھر دو چار بیٹھے ہیںنسیم بھرتپوری
- جور پیہم کی انتہا بھی ہےایک کے بعد دوسرا بھی ہےنسیم بھرتپوری
- جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگازمیں پر کوئی تم سا پیدا نہ ہوگانسیم بھرتپوری
- دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میںتو بولے طائر رنگ حنا ہر بار چٹکی میںنسیم بھرتپوری
- دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسندہم کو نہیں پسند دل آرزو پسندنسیم بھرتپوری
- ذکر دشمن ہے ناگوار کسےتم سناتے ہو بار بار کسےنسیم بھرتپوری
- رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرناکچھ کہہ تو سہی ظالم آخر تجھے کیا کرنانسیم بھرتپوری
- سب لطف ہے خاک زندگی کاہو خانہ خراب عاشقی کانسیم بھرتپوری
- غیر کے گھر بن کے ڈالی جائے گیکیوں کر ان کی عید خالی جائے گینسیم بھرتپوری
- غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہےجان جانے کے ہیں سامان بڑی مشکل ہےنسیم بھرتپوری
- کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگےسو اور سنائے گا وہ اغیار کے آگےنسیم بھرتپوری
- میرے تڑپنے نے تماشا کیاوہ نگہ شوق سے دیکھا کیانسیم بھرتپوری
- نالۂ دل کمال کا نکلاان سے پہلو وصال کا نکلانسیم بھرتپوری
- نہ مانی اس نے ایک بھی دل کیدل ہی میں بات رہ گئی دل کینسیم بھرتپوری
- ہجر میں جب خیال یار آیالب پہ نالہ ہزار بار آیانسیم بھرتپوری
- ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیںگو منہ پہ نہ لائیں گے مگر دیکھ رہے ہیںنسیم بھرتپوری
- ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئےتیر نظر پڑے ہیں کہاں دیکھ لیجئےنسیم بھرتپوری
- یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گےوہ حاصل بڑی نیک نامی کریں گےنسیم بھرتپوری
- ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہےرات دن شام و سحر امروز فردا ہم سے ہےنسیم بھرتپوری
- شب فرقت قضا نہیں آتیلاکھ کہتا ہوں آ نہیں آتینسیم بھرتپوری