Poetry
- آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہےکچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- آج تو بے سبب اداس ہے جیعشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
- آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہووہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہوNasir Kazmi (1925–1972)
- اپنی دھن میں رہتا ہوںمیں بھی تیرے جیسا ہوںNasir Kazmi (1925–1972)
- اس دنیا میں اپنا کیا ہےکہنے کو سب کچھ اپنا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہمدو قدم اور مرے ساتھ چلوNasir Kazmi (1925–1972)
- اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کویاد آئی تری انگشت حنائی مجھ کوNasir Kazmi (1925–1972)
- او میرے مصروف خدااپنی دنیا دیکھ ذراNasir Kazmi (1925–1972)
- پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئےپھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئےNasir Kazmi (1925–1972)
- ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہےدیا سا رات بھر جلتا رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائیشب فراق ہے یا تیری جلوہ آرائیNasir Kazmi (1925–1972)
- ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیںمگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریںکہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریںNasir Kazmi (1925–1972)
- تنہائی کا دکھ گہرا تھامیں دریا دریا روتا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
- تو جب میرے گھر آیا تھامیں اک سپنا دیکھ رہا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
- تھوڑی دیر کو جی بہلا تھاپھر تری یاد نے گھیر لیا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
- تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئیآنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
- جب رات گئے تری یاد آئی سو طرح سے جی کو بہلایاکبھی اپنے ہی دل سے باتیں کیں کبھی تیری یاد کو سمجھایاNasir Kazmi (1925–1972)
- درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹےغم کی میعاد بڑھا جاؤ کہ کچھ رات کٹےNasir Kazmi (1925–1972)
- دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگایاد نے کنکر پھینکا ہوگاNasir Kazmi (1925–1972)
- دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تری یاد تھی اب یاد آیاNasir Kazmi (1925–1972)
- دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھیکوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھیNasir Kazmi (1925–1972)
- دل میں اور تو کیا رکھا ہےتیرا درد چھپا رکھا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئےچاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئےNasir Kazmi (1925–1972)
- دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیاملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیاNasir Kazmi (1925–1972)
- دیکھ محبت کا دستورتو مجھ سے میں تجھ سے دورNasir Kazmi (1925–1972)
- سفر منزل شب یاد نہیںلوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- شہر سنسان ہے کدھر جائیںخاک ہو کر کہیں بکھر جائیںNasir Kazmi (1925–1972)
- عشق جب زمزمہ پیرا ہوگاحسن خود محو تماشا ہوگاNasir Kazmi (1925–1972)
- غم ہے یا خوشی ہے تومیری زندگی ہے توNasir Kazmi (1925–1972)
- کب تلک مدعا کہے کوئینہ سنو تم تو کیا کہے کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
- کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیںآئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیںNasir Kazmi (1925–1972)
- کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھےگزر گئی جرس گل اداس کر کے مجھےNasir Kazmi (1925–1972)
- کل جنہیں زندگی تھی راس بہتآج دیکھا انہیں اداس بہتNasir Kazmi (1925–1972)
- کون اس راہ سے گزرتا ہےدل یوں ہی انتظار کرتا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھےرات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھےNasir Kazmi (1925–1972)
- گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانےخدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانےNasir Kazmi (1925–1972)
- گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگدلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگNasir Kazmi (1925–1972)
- گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چلمجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکلNasir Kazmi (1925–1972)
- گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہعجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہNasir Kazmi (1925–1972)
- مسلسل بیکلی دل کو رہی ہےمگر جینے کی صورت تو رہی ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- میں نے جب لکھنا سیکھا تھاپہلے تیرا نام لکھا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
- میں ہوں رات کا ایک بجا ہےخالی رستہ بول رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہےکل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گاNasir Kazmi (1925–1972)
- نیت شوق بھر نہ جائے کہیںتو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیےوہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیےNasir Kazmi (1925–1972)
- وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیںمرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئےوہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئےNasir Kazmi (1925–1972)
- ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھیبرہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھیNasir Kazmi (1925–1972)
- یاد آتا ہے روز و شب کوئیہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئیNasir Kazmi (1925–1972)