Poetry
- ابد ہونے کا تجربہ کیا ہےاس نے سونے کا تجربہ کیا ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- ایک سخن کو بھول کر ایک کلام تھا ضرورمیرا تو ذکر ہی نہ تھا پر ترا نام تھا ضرورNadeem Bhabha (b. 1977)
- بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاسایک تو ہے اور اک دعا مرے پاسNadeem Bhabha (b. 1977)
- بہت شدت سے جو قائم ہوا تھاوہ رشتہ ہم میں شاید جھوٹ کا تھاNadeem Bhabha (b. 1977)
- تمام عمر جلے اور روشنی نہیں کییہ زندگی ہے تو پھر ہم نے زندگی نہیں کیNadeem Bhabha (b. 1977)
- جیسا ہوں جس حال میں ہوں اچھا ہوں میںتم نے زندہ سمجھا تو زندہ ہوں میںNadeem Bhabha (b. 1977)
- حالت حال میں آداب نہیں بھولتا میںخود کو بھولوں بھی تو احباب نہیں بھولتا میںNadeem Bhabha (b. 1977)
- دکھا رہا ہوں تماشہ سمجھ میں آ جائےکہ ایک بار اسے دنیا سمجھ میں آ جائےNadeem Bhabha (b. 1977)
- دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہےکسی غفلت کی سزا دی گئی ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیالگتا ہے کوئی فرق محبت میں رہ گیاNadeem Bhabha (b. 1977)
- دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہےوہ جیسا چاہے ہو جانا پڑتا ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- رابطہ مجھ سے مرا جوڑ دیا کرتا تھاوہ جو اک شخص مجھے چھوڑ دیا کرتا تھاNadeem Bhabha (b. 1977)
- راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتاساتھ ہوتا اگر نہیں جاتاNadeem Bhabha (b. 1977)
- روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہوحلقۂ رقص ہے تیار کوئی مستی ہوNadeem Bhabha (b. 1977)
- سفر کی دھول کو چہرے سے صاف کرتا رہامیں اس گلی کا مسلسل طواف کرتا رہاNadeem Bhabha (b. 1977)
- سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہےکہ اب کوئی بھی صورت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- شدید گریہ کا مطلب بتا رہا تھا ہمیںوہ رو رہا تھا کہ رونا سکھا رہا تھا ہمیںNadeem Bhabha (b. 1977)
- عجیب ہوں کہ محبت شناس ہو کر بھیاداس لگتا نہیں ہوں اداس ہو کر بھیNadeem Bhabha (b. 1977)
- مانگتے مانگتے دعا مرے ساتھبجھ گیا آخری دیا مرے ساتھNadeem Bhabha (b. 1977)
- محبت لازمی ہے مانتا ہوںمگر ہم زاد اب میں تھک گیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
- مل رہے ہو بڑی عقیدت سےخوف آتا ہے اتنی عزت سےNadeem Bhabha (b. 1977)
- میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوںکسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
- میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوںتخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
- وقت کی طرح ترے ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیںہم ستارے ہیں مگر رات سے نکلے ہوئے ہیںNadeem Bhabha (b. 1977)
- ہجر ہوں پورا ہجر ہوں عشق وصال کرےدل کی دھڑکن تال ہو جسم دھمال کرےNadeem Bhabha (b. 1977)
- ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحبجواب اور بھی دشوار ہو گئے صاحبNadeem Bhabha (b. 1977)