Poetry
- اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلےدشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلےIbn-e-Insha (1927–1978)
- اس حسن کے نام پہ یاد آئے سب منظر فیضؔ کی نظموں کےوہی رنگ حنا وہی بند قبا وہی پھول کھلے پیراہن میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گاوہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
- انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیاوحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیاIbn-e-Insha (1927–1978)
- اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کاصبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کاIbn-e-Insha (1927–1978)
- جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میںلیلیٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیاکبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیاIbn-e-Insha (1927–1978)
- جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہےکب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچانشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل عشق میں بے پایاں سودا ہو تو ایسا ہودریا ہو تو ایسا ہو صحرا ہو تو ایسا ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہےیہ حسن طلب کی بات نہیں ہوتا ہے مری جاں ہوتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہواس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھےدھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھےIbn-e-Insha (1927–1978)
- راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئے گاجی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
- سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکےتیرا دامن دور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکےIbn-e-Insha (1927–1978)
- سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہوانشاؔ صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- شام غم کی سحر نہیں ہوتییا ہمیں کو خبر نہیں ہوتیIbn-e-Insha (1927–1978)
- کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہواے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- کس کو پار اتارا تم نے کس کو پار اتارو گےملاحو تم پردیسی کو بیچ بھنور میں مارو گےIbn-e-Insha (1927–1978)
- کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا تراIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہےکچھ اپنی جسارت ہوتی ہے کچھ ان کا اشارا ہوتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاںآج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نےابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نےIbn-e-Insha (1927–1978)
- اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانااک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افساناIbn-e-Insha (1927–1978)
- انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوںایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
- اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںIbn-e-Insha (1927–1978)
- تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- تین ہماری بہنیں چھوٹیمل کر کھائیں آدھی روٹیIbn-e-Insha (1927–1978)
- چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیIbn-e-Insha (1927–1978)
- چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دواس آگ سے لوگو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہاس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہIbn-e-Insha (1927–1978)
- دنیا بھر سے دور یہ نگرینگری دنیا بھر سے نرالیIbn-e-Insha (1927–1978)
- دیکھ تو گوری کسے پکارےبستی بستی دوارے دوارےIbn-e-Insha (1927–1978)
- سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہےاس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوںفرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوںIbn-e-Insha (1927–1978)
- کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہےہاں در پہ ترے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- کل ہم نے سپنا دیکھا ہےجو اپنا ہو نہیں سکتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!Ibn-e-Insha (1927–1978)
- منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھاوہ جو اپنے شہر سے آگے قریۂ باغ و بہاراں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم بنجارے دل والے ہیںاور پینٹھ میں ڈیرے ڈالے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم گھوم چکے بستی بن میںاک آس کی پھانس لیے من میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیااک دھند ملی جس راہ میں پیک خیال گیاIbn-e-Insha (1927–1978)
- یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- یہ بچہ کیسا بچہ ہےیہ بچہ کالا کالا ساIbn-e-Insha (1927–1978)