Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہماپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  2. بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیاپھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  3. برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئیہم کو بھی اب تو خاک ہوئے دیر ہو گئیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  4. تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہمپھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  5. حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتاکیسا ہوتا ہے خدا تم کو میں دکھلا سکتاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  6. دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیاکہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  7. دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہناشناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہناFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  8. دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھےجس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  9. سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیںکھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  10. لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیاپھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  11. ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہرسو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہرFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  12. اس کو مرے خوابوں کا رستہجانے کس نے دکھایا ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  13. جب شام کی پلکیں تھرائیںیادوں کی آنکھیں بھر آئیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  14. جن گلیوں کا سورجرستہ بھول گیا ہوFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  15. خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئےہو گئے بند گیٹ آنکھوں کےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  16. زندگی ہو گئی ہے بے ترتیباب ٹھکانے پہ کوئی چیز نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  17. کوئی آگ پئے کہ زہر پئےیا سانپ ڈسے کی موت مرےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  18. ''مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیںکسی اور زمیں کی مٹی ہے''Faheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  19. اس کے آداب تو پہلے سیکھوخاک میں خون رگ جاں توFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  20. ایک بوسے کی طلب میںجسم کبڑے ہو گئےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  21. تم نے کیا دیکھا یہاں کچھ بھی نہیںہم نے کیا پایا یہاں کچھ بھی نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  22. خاک میں خاک ملیاور ہوا قصہ تمامFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  23. خودکشی کے پل پرسمندر کی لہروں میں بہتیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  24. رات ہی رات میںراستے شہر سے جنگلوں کو مڑےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  25. رات ہے بردہ فروشاس کے بہکائے ہوئے ہوش میں کب آئے ہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  26. سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنےآشیانوں کو پرندے بھی نہیں چھوڑتے جبFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  27. عشق کی تند خیزی کے اوقات آخر ہوئےاے مبارز طلب زندگیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  28. علی بابایہ عجلت ہمتوں کو پست کرتی ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  29. کہیں جب سرفروشی کیمحبت استقامت کیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  30. منڈیروں سے جب دھوپ اتریابھی رات جاگی نہیں تھیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  31. بارہ دری میں چاند سر شام ہو گیارہ داریوں کے پردے اڑاتی رہی ہواFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  32. عالم پناہخیر سے بے دار ہو گئےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  33. کتنے منظر ٹوٹ کے گرتے رہتے ہیںان آنکھوں سےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  34. گزرنا ہی اگر ٹھہراتو آہستہ سے گزروFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  35. گماں کی بے رنگ ساعتوں میںنواح کرب و بلا سے دربار شام تک ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  36. اس کے لبوں کی گفتگو کرتے رہے سبو سبویعنی سخن ہوئے تمام یعنی کلام ہو چکاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  37. زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیاتمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  38. صاحب! یہ میرا نامۂ تقدیر دیکھیےاک شام ہجر اس میں کئی بار درج ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  39. گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھرستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  40. یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجودجیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)