Poetry
- اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہماپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیاپھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئیہم کو بھی اب تو خاک ہوئے دیر ہو گئیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہمپھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتاکیسا ہوتا ہے خدا تم کو میں دکھلا سکتاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیاکہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہناشناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہناFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھےجس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیںکھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیاپھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہرسو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہرFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- اس کو مرے خوابوں کا رستہجانے کس نے دکھایا ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- جب شام کی پلکیں تھرائیںیادوں کی آنکھیں بھر آئیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- جن گلیوں کا سورجرستہ بھول گیا ہوFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئےہو گئے بند گیٹ آنکھوں کےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- زندگی ہو گئی ہے بے ترتیباب ٹھکانے پہ کوئی چیز نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- کوئی آگ پئے کہ زہر پئےیا سانپ ڈسے کی موت مرےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- ''مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیںکسی اور زمیں کی مٹی ہے''Faheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- اس کے آداب تو پہلے سیکھوخاک میں خون رگ جاں توFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- ایک بوسے کی طلب میںجسم کبڑے ہو گئےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- تم نے کیا دیکھا یہاں کچھ بھی نہیںہم نے کیا پایا یہاں کچھ بھی نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- خاک میں خاک ملیاور ہوا قصہ تمامFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- خودکشی کے پل پرسمندر کی لہروں میں بہتیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- رات ہی رات میںراستے شہر سے جنگلوں کو مڑےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- رات ہے بردہ فروشاس کے بہکائے ہوئے ہوش میں کب آئے ہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- سارباں نکلے تھے جس وقت گھروں سے اپنےآشیانوں کو پرندے بھی نہیں چھوڑتے جبFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- عشق کی تند خیزی کے اوقات آخر ہوئےاے مبارز طلب زندگیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- علی بابایہ عجلت ہمتوں کو پست کرتی ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- کہیں جب سرفروشی کیمحبت استقامت کیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- منڈیروں سے جب دھوپ اتریابھی رات جاگی نہیں تھیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- بارہ دری میں چاند سر شام ہو گیارہ داریوں کے پردے اڑاتی رہی ہواFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- عالم پناہخیر سے بے دار ہو گئےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- کتنے منظر ٹوٹ کے گرتے رہتے ہیںان آنکھوں سےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- گزرنا ہی اگر ٹھہراتو آہستہ سے گزروFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- گماں کی بے رنگ ساعتوں میںنواح کرب و بلا سے دربار شام تک ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- اس کے لبوں کی گفتگو کرتے رہے سبو سبویعنی سخن ہوئے تمام یعنی کلام ہو چکاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیاتمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- صاحب! یہ میرا نامۂ تقدیر دیکھیےاک شام ہجر اس میں کئی بار درج ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھرستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجودجیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)