Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ میں آنسو نظر میں درد پیدا کر گیامیرا ہنسنے کا ارادہ کیا غضب ڈھا کر گیاBalraj Hairat (1930–1995)
  2. اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلےساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلےBalraj Hairat (1930–1995)
  3. اک فاختہ یہ پوچھ رہی ہے ہواؤں سےکب تک چلے گا کام تمہاری دعاؤں سےBalraj Hairat (1930–1995)
  4. ترک و طلب کے ہنگاموں کو عشق سمجھنا وحشت ہےعشق تحیر بے پایاں ہے عشق مجسم حیرت ہےBalraj Hairat (1930–1995)
  5. تسلیم ان آنکھوں کا اعجاز مسیحائیلیکن یہ بتا آخر کس کس نے شفا پائیBalraj Hairat (1930–1995)
  6. چھوڑ دے کرب انا موجۂ پر خم بننازندگی سیکھ گئی گیسوئے برہم بنناBalraj Hairat (1930–1995)
  7. حساس دل تھا شرم سے نم دیدہ ہو گیاناحق میں اس کی بات پہ رنجیدہ ہو گیاBalraj Hairat (1930–1995)
  8. خود ہی اپنا راز خود ہی راز داں بن جاؤں گاایک لمحے کا یقیں ہوں پھر گماں بن جاؤں گاBalraj Hairat (1930–1995)
  9. سخت نا ہموار و مشکل تھا مگر ایسا نہ تھامیں نے جب راہیں تراشی تھیں سفر ایسا نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
  10. عقل کے دشمن بھی ہم ٹھہرے دل کا بھی نقصان کیاذوق طلب کی آڑ میں حیرتؔ نفس نے کیا حیران کیاBalraj Hairat (1930–1995)
  11. قرنوں پرانا وقت کو للکارتا ہوااک شہر ہے ہمارے بھی اندر بسا ہواBalraj Hairat (1930–1995)
  12. کرشمہ کیا نہ ہوا بات کون سی نہ ہوئیمگر چراغ تلے روشنی کبھی نہ ہوئیBalraj Hairat (1930–1995)
  13. کسی نشے سے بیشتر تو نہ تھارشتۂ غم بھی معتبر تو نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
  14. کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھاسورج کے ڈوبنے میں بھی کتنا وقار تھاBalraj Hairat (1930–1995)
  15. کہیں خلا میں کوئی روح چیختی ہوگیمرا خیال ہے اب شام ڈھل چکی ہوگیBalraj Hairat (1930–1995)
  16. کھڑے ہیں سامنے احباب اجگروں کی طرحبلا رہا ہے بیاباں کھلے دروں کی طرحBalraj Hairat (1930–1995)
  17. نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیادانستہ میں نے ہاتھ تہ سنگ دے دیاBalraj Hairat (1930–1995)
  18. نہ تیری شکل سے واقف نہ تیری باس سے لوگشناخت کیسے کریں گے تجھے قیاس سے لوگBalraj Hairat (1930–1995)