Poetry
- آنکھ میں آنسو نظر میں درد پیدا کر گیامیرا ہنسنے کا ارادہ کیا غضب ڈھا کر گیاBalraj Hairat (1930–1995)
- اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلےساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلےBalraj Hairat (1930–1995)
- اک فاختہ یہ پوچھ رہی ہے ہواؤں سےکب تک چلے گا کام تمہاری دعاؤں سےBalraj Hairat (1930–1995)
- ترک و طلب کے ہنگاموں کو عشق سمجھنا وحشت ہےعشق تحیر بے پایاں ہے عشق مجسم حیرت ہےBalraj Hairat (1930–1995)
- تسلیم ان آنکھوں کا اعجاز مسیحائیلیکن یہ بتا آخر کس کس نے شفا پائیBalraj Hairat (1930–1995)
- چھوڑ دے کرب انا موجۂ پر خم بننازندگی سیکھ گئی گیسوئے برہم بنناBalraj Hairat (1930–1995)
- حساس دل تھا شرم سے نم دیدہ ہو گیاناحق میں اس کی بات پہ رنجیدہ ہو گیاBalraj Hairat (1930–1995)
- خود ہی اپنا راز خود ہی راز داں بن جاؤں گاایک لمحے کا یقیں ہوں پھر گماں بن جاؤں گاBalraj Hairat (1930–1995)
- سخت نا ہموار و مشکل تھا مگر ایسا نہ تھامیں نے جب راہیں تراشی تھیں سفر ایسا نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
- عقل کے دشمن بھی ہم ٹھہرے دل کا بھی نقصان کیاذوق طلب کی آڑ میں حیرتؔ نفس نے کیا حیران کیاBalraj Hairat (1930–1995)
- قرنوں پرانا وقت کو للکارتا ہوااک شہر ہے ہمارے بھی اندر بسا ہواBalraj Hairat (1930–1995)
- کرشمہ کیا نہ ہوا بات کون سی نہ ہوئیمگر چراغ تلے روشنی کبھی نہ ہوئیBalraj Hairat (1930–1995)
- کسی نشے سے بیشتر تو نہ تھارشتۂ غم بھی معتبر تو نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
- کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھاسورج کے ڈوبنے میں بھی کتنا وقار تھاBalraj Hairat (1930–1995)
- کہیں خلا میں کوئی روح چیختی ہوگیمرا خیال ہے اب شام ڈھل چکی ہوگیBalraj Hairat (1930–1995)
- کھڑے ہیں سامنے احباب اجگروں کی طرحبلا رہا ہے بیاباں کھلے دروں کی طرحBalraj Hairat (1930–1995)
- نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیادانستہ میں نے ہاتھ تہ سنگ دے دیاBalraj Hairat (1930–1995)
- نہ تیری شکل سے واقف نہ تیری باس سے لوگشناخت کیسے کریں گے تجھے قیاس سے لوگBalraj Hairat (1930–1995)