Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھیمے بڑی افراط سے تھی پھر بھی سرشاری نہ تھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  2. ایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہےزلف و زنجیر سے یک گونہ شغف کیا کم ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  3. تو پیمبر سہی یہ معجزہ کافی تو نہیںشاعری زیست کے زخموں کی تلافی تو نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  4. جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نےاپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  5. جب کبھی بات کسی کی بھی بری لگتی ہےایسا لگتا ہے کہ سینے میں چھری لگتی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  6. جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھیآئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  7. خدا پرست ملے اور نہ بت پرست ملےملے جو لوگ وہ اپنے نشے میں مست ملےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  8. خشک کھیتی ہے مگر اس کو ہری کہتے ہیںکم نگاہی کو بھی وہ دیدہ وری کہتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  9. خیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہےکبھی انہیں بھی ہمارا خیال آتا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  10. داستان شوق کتنی بار دہرائی گئیسننے والوں میں توجہ کی کمی پائی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  11. دل دادگان لذت ایجاد کیا کریںسیلاب اشک و آہ پہ بنیاد کیا کریںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  12. زنجیر سے جنوں کی خلش کم نہ ہو سکیبھڑکی اگر یہ آنچ تو مدھم نہ ہو سکیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  13. سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھاہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  14. شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئیگھٹا چمن پہ بہاروں کو لے کے چھا ہی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  15. فغان درد میں بھی درد کی خلش ہی نہیںدلوں میں آگ لگی ہے مگر تپش ہی نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  16. کچھ لوگ تغیر سے ابھی کانپ رہے ہیںہم ساتھ چلے تو ہیں مگر ہانپ رہے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  17. لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیےکیسی افتاد پڑی دیکھنے والوں کے لیےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  18. لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیںاور فن کار تو تنہا ہی رہا کرتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  19. نوائے شوق میں شورش بھی ہے قرار بھی ہےخرد کا پاس بھی خوابوں کا کاروبار بھی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  20. وہ احتیاط کے موسم بدل گئے کیسےچراغ دل کے اندھیرے میں جل گئے کیسےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  21. وہ جئیں کیا جنہیں جینے کا ہنر بھی نہ ملادشت میں خاک اڑاتے رہے گھر بھی نہ ملاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  22. ہر اک جنت کے رستے ہو کے دوزخ سے نکلتے ہیںانہیں کا حق ہے پھولوں پر جو انگاروں پہ چلتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  23. ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہےتو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  24. ہم برق و شرر کو کبھی خاطر میں نہ لائےاس فتنۂ دوراں کو مگر دیکھ نہ پائےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  25. ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھےنے کسی کی جیب میں تھے نہ کسی جھولی میں تھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  26. ہمیں تو مے کدے کا یہ نظام اچھا نہیں لگتانہ ہو سب کے لیے گردش میں جام اچھا نہیں لگتاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  27. یوں جو افتاد پڑے ہم پہ وہ سہہ جاتے ہیںہاں کبھی بات جو کہنے کی ہے کہہ جاتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  28. تین فتنوں کا قصہ پرانا ہواچار فتنوں کا سنیے ذرا ماجراAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  29. گو رات کی جبیں سے سیاہی نہ دھل سکیلیکن مرا چراغ برابر جلا کیاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  30. میری بیٹی جب بڑی ہو جائے گیسارے گھر میں چاندنی پھیلائے گیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  31. نمبر ایک بڑا ہی نیککھائے کیک پئے ملک شیکAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  32. یہ نئی پود الحفیظ و الاماںرعد ہے طوفان ہے آتش فشاںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  33. یوں تو بچے اور بھی ہیںلمبے اور چوکور بھی ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  34. آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقیلطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  35. ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہجو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  36. تمہاری مصلحت اچھی کہ اپنا یہ جنوں بہترسنبھل کر گرنے والو ہم تو گر گر کر سنبھلے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  37. ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکنطوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  38. کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی باتاور کچھ خون جگر ہم بھی ملا دیتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)