کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی بات

Aale Ahmad Suroor (1911–2002)

کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی بات

اور کچھ خون جگر ہم بھی ملا دیتے ہیں