Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہاگستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  2. ناصح تپاں ہے، شیفتۂ نیم جاں کی طرحکیا دل میں چبھ گئی نگہِ جاں ستاں کی طرح؟Mustafa Khan Shefta (1809–1869)
  3. نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کانہ شوقِ شعرِ تر و بذلہ ہائے رنگیں کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  4. نہ کر فاش رازِ گلستاں عبثنہ ہو بلبلِ زار نالاں عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  5. وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کرتاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  6. وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیامفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  7. ہم بے نشان اور وفا کا نشاں ہنوزہے خاکِ تن ہوا و ہوا خوں فشاں ہنوزMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  8. ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کاگیرا مگر نہیں ہے نفس عندلیب کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  9. ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیزکہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیزMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  10. ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہویا ہم نہ ہوں جہاں میں خدا یا جہاں نہ ہوMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  11. ہے دل کو یوں ترے دمِ اعجاز اثر سے فیضغنچے کو جیسے موجۂ بادِ سحر سے فیضMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  12. یار کو محرومِ تماشا کیامرگِ مفاجات نے یہ کیا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  13. یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیالغالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  14. یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاںاے دل! خیالِ طرہ تابیدہ مو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  15. یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کاآخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  16. یہ بات تو غلط ہے کہ دیوانِ شیفتہہے نسخہء معارف و مجموعۂ کمالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  17. اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھنور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  18. اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتادل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  19. بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہمواقف ہیں شیوۂ دلِ شورش ادا سے ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  20. پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاقبے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخششMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  21. تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گاہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہا گاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  22. جفا و جور کا اس سے گلہ کیاجو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  23. خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمعپروانے کو پسند نہیں پر سوائے شمعMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  24. دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایتکیوں کر نہ کروں شوخیِ دلبر کی شکایتMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  25. دور رہنا ہم سے کب تک اور بے گانے کے پاسہیں قریبِ مرگ، کیا اب بھی نہیں آنے کے پاس؟Mustafa Khan Shefta (1809–1869)
  26. شیفتہ آیا ہوں میں کس کا تماشا دیکھ کررہ گئے حیران مجھ کو سب خود آرا دیکھ کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  27. طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصلدیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصلMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  28. غم غلط کرنے کو احباب ہمیں جانبِ باغلے گئے کل تو عجب رنگِ گلستاں دیکھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  29. قبر پر وہ بتِ گل فام آیابارے مرنا تو مرے کام آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  30. کہا کل میں نے اے سرمایۂ نازتلون سے ہے تم کو مدعا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  31. کیا تھا نور جب اللہ نے پیدا محمد کااسی دن سے ہوا ہے عاشق شیدا محمد کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  32. کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کاکیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  33. واں ہوا پردہ اٹھانا موقوفیاں ہوا راز چھپانا موقوفMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  34. ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کاسمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  35. یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطرابجیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطرابMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  36. یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دوریہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دورMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  37. آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہواکوچۂ گل سے دھواں ہو کر نکلتی ہے ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
  38. آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سببدل بیچ کر ہوا میں گنہ گار بے سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
  39. آشنا کوئی باوفا نہ ملاکشتئ دل کا ناخدا نہ ملاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  40. آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خرابکس کس مکان کو نہ کرے گا دھواں خرابImdad Ali Bahr (1810–1878)
  41. اب مرنا ہے اپنے خوشی ہے جینے سے بے زاری ہےعشق میں ایسے ہلکے ہوئے ہیں جان بدن کو بھاری ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  42. اس طرح زیست بسر کی کوئی پرساں نہ ہوایوں میں دنیا سے اٹھا داغ عزیزاں نہ ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
  43. افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سےچھاپے گئے اخبار مری بے خبری سےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  44. امور خیر میں کچھ اہتمام ہو نہ سکامال نیک ہو جس کا وہ کام ہو نہ سکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  45. ایسی کوئل نہ پپیہے کی ہے پیاری آوازکیا بھلی لگتی ہے کانوں کو تمہاری آوازImdad Ali Bahr (1810–1878)
  46. ایسے پر نور و ضیا یار کے رخسارے ہیںجن کے آگے مہ و خورشید بھی دو تارے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  47. ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکااس کا تو امتحان کئی بار ہو چکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  48. بتو خدا پہ نہ رکھو معاملہ دل کابرا بھلا یہیں ہو جائے فیصلہ دل کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  49. بغیر یار گوارا نہیں کباب شرابگزک ہے داغ مجھے اور خون ناب شرابImdad Ali Bahr (1810–1878)
  50. بولئے کرتا ہوں منت آپ کیکیوں مکدر ہے طبیعت آپ کیImdad Ali Bahr (1810–1878)