Poetry
Poet
Meter
- تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔوگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہُوں میںMirza Ghalib (1797–1869)
- سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!Mirza Ghalib (1797–1869)
- دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیںیعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میںہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میںMirza Ghalib (1797–1869)
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟روئیں گے ہم ہزار بار ۔کوئی ہمیں ستائے کیوں؟Mirza Ghalib (1797–1869)
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوںMirza Ghalib (1797–1869)
- ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدےیہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصِیہ سا ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوںہے حیا مانعِ اظہار۔ کہوں یا نہ کہوںMirza Ghalib (1797–1869)
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوںمیں دشتِ غم میں آہوۓ صیّاد دیدہ ہوںMirza Ghalib (1797–1869)
- جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیںکپڑوں میں جوئیں بخۓ کے ٹانکوں سے سوا ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤںMirza Ghalib (1797–1869)
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہوکہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیںایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کِشت کوMirza Ghalib (1797–1869)
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کوMirza Ghalib (1797–1869)
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوصد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کوMirza Ghalib (1797–1869)
- تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہونہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہوکیا لطف ہو جو ابلقِ دوراں بھی رام ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہMirza Ghalib (1797–1869)
- از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہطوطی کو" شش جہت" سے مقابل ہے آئینہMirza Ghalib (1797–1869)
- ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہجس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھMirza Ghalib (1797–1869)
- نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجاۓ گی جواب کے ساتھMirza Ghalib (1797–1869)
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیےطاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیےMirza Ghalib (1797–1869)
- مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیےMirza Ghalib (1797–1869)
- بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھیMirza Ghalib (1797–1869)
- ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سےMirza Ghalib (1797–1869)
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جاسن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتےMirza Ghalib (1797–1869)
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کیMirza Ghalib (1797–1869)
- حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامیMirza Ghalib (1797–1869)
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائےMirza Ghalib (1797–1869)
- سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہےناخنِ انگشت بتخالِ لبِ بیمار ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرےکندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتےMirza Ghalib (1797–1869)
- مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہےجسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- نشۂ مے بے چمن دودِ چراغِ کشتہ ہےجام داغِ شعلہ اندودِ چراغِ کشتہ ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہےسرمہ تو کہوے کہ دود شعلۂ آواز ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہیMirza Ghalib (1797–1869)
- ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھےصبح وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھےMirza Ghalib (1797–1869)
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھےMirza Ghalib (1797–1869)
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیےMirza Ghalib (1797–1869)