مثل گل کھل کہ یہ غنچہ دہنی خوب نہیں

Chandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)

مثل گل کھل کہ یہ غنچہ دہنی خوب نہیں

بات کر ہم سے بھی کچھ کم سخنی خوب نہیں

گل بکھر جائیں گے سنبل کی طرح گلشن میں

تیز مت چلیو نسیم چمنی خوب نہیں

لعل و گوہر سے بھرا خود ہے سراپا تیرا

خواہش لعل و عقیق یمنی خوب نہیں

پر ثمر شاخ کو ہے سر کا جھکانا اچھا

چھوڑ دے اپنے سے یہ ما و منی خوب نہیں

تیرا مشتاق ہے شاداںؔ یہ سنا ہے تو نے

آ مل اب دل سے کہ یہ دل شکنی خوب نہیں