اب کے ترے گھر جو آئیں گے ہم

Ijad Burhanpuri (b. 1771)

اب کے ترے گھر جو آئیں گے ہم

پھر یہاں سے کہیں نہ جائیں گے ہم

مانند نسیم تجھ کو ہر صبح

اے غنچہ وہاں ہنسائیں گے ہم

جو تیری زبان سے آئے کہیو

ٹک منہ تو تو منہ لگائیں گے ہم

پی کر ترے منہ کی گالیاں بھی

ان ہاتھوں کی مار کھائیں گے ہم

لوہو ترا پانی کر کے تجھ کو

بادہ کی جگہ پلائیں گے ہم

پہر ہم کہے یہ تیری خاطر

یہ جو کہیں سب اٹھائیں گے ہم

اب تو تری بندگی میں آئے

جس طرح اٹھے اٹھائیں گے ہم

سن یار کہا کہ تجھ کو ایجادؔ

ان باتوں ستی دکھائیں گے ہم