ہم پریشاں ہیں تری اس زلف بکھرانے کے ہات
Lutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)ہم پریشاں ہیں تری اس زلف بکھرانے کے ہات
روز و شب تڑپے ہیں ظالم اس کے بل کھانے کے ہات
ساقیٔ بے مہر گندم رنگ کے جوروں سے ہی
پس گیا ہے جان و دل تو ہائے پیمانے کے ہات
بو اگر آوے تو یارو کیجیو تم ہم کو یاد
سر پٹک کر مر گئے افسوس میخانے کے ہات
یہ نہ سمجھے تھے کہ اب کے عیش سب جاوے گا آہ
ہو گئے بے خانماں ہم تو بہار آنے کے ہات
کیوں پرستش سے صنم کی باز آوے امتیازؔ
زاہدا ہم بک چکے ہیں اب تو بت خانے کے ہات