بیٹھا ہوں ترے ابروئے خم دار کے نزدیک
Ijad Burhanpuri (b. 1771)بیٹھا ہوں ترے ابروئے خم دار کے نزدیک
سر اپنا رکھا ہوں اسی تروار کے نزدیک
ہوں مردۂ دیدار مری نعش کو یارو
رکھ دیجو ٹک اوس نرگس بیمار کے نزدیک
بکتا ہوں زر مہر ہو بازار وفا میں
ان مولوں گراں نیں ہوں خریدار کے نزدیک
کیں اور نہ ڈھونڈیجو مجھے حشر میں ایجادؔ
پا سے ہوں وہاں حیدر کرار کے نزدیک