سوچتا ہوں کہ کیا کیا اب تک
B.M Khan Maley (b. 1952)سوچتا ہوں کہ کیا کیا اب تک
جیتے رہنے سے کیا ملا اب تک
ایک مدت سے جی رہا ہوں بس
کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اب تک
آج کو چھوڑ فکر میں کل کی
کیسے کیا جانے جی لیا اب تک
سارے لوگوں کی باتیں سنتا رہا
خود کا کہنا نہیں سنا اب تک
ہوش اڑتے ہیں جب میاں بچے
پوچھتے ہیں کہ کیا کیا اب تک
اک زمانے سے ہے تلاش مگر
مل نہ پایا مجھے خدا اب تک
دکھ تو اس بات کا معالےؔ ہے
کچھ نہیں خاص کر سکا اب تک