Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہےموت آتی ہے شب ہجر نہ نیند آتی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  2. گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دنادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دنAkbar Allahabadi (1846–1921)
  3. لطف چاہو اک بت نوخیز کو راضی کرونوکری چاہو کسی انگریز کو راضی کروAkbar Allahabadi (1846–1921)
  4. مثل بلبل زمزموں کا خود یہاں اک رنگ ہےارغنوں اس انجمن میں خارج از آہنگ ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  5. مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرفکرکٹ کی کھلائی ایک طرف کالج کی پڑھائی ایک طرفAkbar Allahabadi (1846–1921)
  6. مری روح تن سے جدا ہو گئیکسی نے نہ جانا کہ کیا ہو گئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  7. مسمریزم کے عمل میں دہر اب مشغول ہےمغرب و مشرق میں اک عامل ہے اک معمول ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  8. مسوں کے سامنے کیا مذہبی بہانہ چلےچلیں گے ہم بھی اسی رخ جدھر زمانہ چلےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  9. معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہےنیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  10. مل گیا شرع سے شراب کا رنگخوب بدلا غرض جناب کا رنگAkbar Allahabadi (1846–1921)
  11. منتشر ذروں کو یکجائی کا جوش آیا تو کیاچار دن کے واسطے مٹی کو ہوش آیا تو کیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  12. مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگرکس طرح ان سے ہمارا حال دیکھا جائے گاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  13. میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھکھل گئی آنکھ نگہباں کی بھی زنجیر کے ساتھAkbar Allahabadi (1846–1921)
  14. میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشرمجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  15. میرے دل کو وہ بت دل خواہ جو چاہے کرےاب تو دے ڈالا اسے اللہ جو چاہے کرےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  16. نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتےصدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  17. نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کانہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  18. نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقیزمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  19. نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کیکہ آخر مسلموں میں روح پھونکی بادہ نوشی کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  20. وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھبرف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  21. وہ اٹھے تو بہت گھر سے اپنے مرے گھر میں مگر کبھی آ نہ سکےوہ نسیم مراد چلے بھی تو کیا کہ جو غنچۂ دل کو کھلا نہ سکےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  22. وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہےوہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  23. ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیںیہ سچ بھی ہے کہ مزا بے یقیں تو کچھ بھی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  24. ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیےمنزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  25. ہستیٔ حق کے معانی جو مرا دل سمجھااپنی ہستی کو اک اندیشۂ باطل سمجھاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  26. ہستی کے شجر میں جو یہ چاہو کہ چمک جاؤکچے نہ رہو بلکہ کسی رنگ میں پک جاؤAkbar Allahabadi (1846–1921)
  27. ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  28. ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کانثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  29. ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہوجان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
  30. ہے دو روزہ قیام سرائے فنا نہ بہت کی خوشی ہے نہ کم کا گلہیہ کہاں کا فسانۂ سود و زیاں جو گیا وہ گیا جو ملا وہ ملاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  31. یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیداجیسے ساون کی گھٹاؤں سے ہو پانی پیداAkbar Allahabadi (1846–1921)
  32. یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیانیٹیو جو ہے تو پھر کیا انگریز ہے تو پھر کیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  33. یہ سوز داغ دل یہ شدت رنج و الم کب تکہمارے ہی لئے یہ جور گردوں ہے تو ہم کب تکAkbar Allahabadi (1846–1921)
  34. یہ کیا ہنگامۂ کون و مکاں ہےمیں کیا ہوں اور نظر میری کہاں ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  35. اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئےتا کجا عشق بتاں میں سست پیماں کیجئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  36. اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاںاگلے سے خیالات ہند میں اب وہ کہاںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  37. اک برگ ضمحل نے یہ اسپیچ میں کہاموسم کی کچھ خبر نہیں اے ڈالیو تمہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  38. بہتر ہے یہی کہ اب علی گڑھ چلئےرکئے نہ کسی کے واسطے بڑھ چلئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  39. بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کوبس خدا سمجھا ہے اس نے برق کو اور بھاپ کوAkbar Allahabadi (1846–1921)
  40. بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاںاکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  41. تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروفنیچر کی جو طاقتوں کو کر دیں مکشوفAkbar Allahabadi (1846–1921)
  42. جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھےتہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  43. جو لوگ طرف دار علی گڑھ کے رہیں گےاس دور میں بے شک وہی بڑھ چڑھ کے رہیں گےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  44. چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جاشیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  45. دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیںمجھ کو اس کھیل کی ضرورت ہی نہیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  46. دیکھتا ہے اک عمر سے بندہبس یہی باتیں اور یہی فنڈہAkbar Allahabadi (1846–1921)
  47. فضل خدا سے عزت پائیآج ہوئے ہم سی ایس آئیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  48. قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبرتو صاف کہتے ہیں سید ہی رنگ ہے میلاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  49. کہہ دو کہ میں خوش ہوں رکھوں گر آپ کو خوشبجلی چمکاؤں اور کروں بھاپ کو خوشAkbar Allahabadi (1846–1921)
  50. کہے کوئی شیخ سے یہ جا کرکہ دیکھیے آ کے بزم سیدAkbar Allahabadi (1846–1921)