یہ سوز داغ دل یہ شدت رنج و الم کب تک

Akbar Allahabadi (1846–1921)

یہ سوز داغ دل یہ شدت رنج و الم کب تک

ہمارے ہی لئے یہ جور گردوں ہے تو ہم کب تک

یہ دفتر ختم ہی ہوگا بھلا ہی دے گا دہر اس کو

یہ حس کب تک نظر کب تک زباں کب تک قلم کب تک

جو ہیں اہل بصیرت کہتے ہیں اکثر یہ اکبرؔ سے

غنیمت ہے ترا دم ہند میں لیکن یہ دم کب تک