مسوں کے سامنے کیا مذہبی بہانہ چلے
Akbar Allahabadi (1846–1921)مسوں کے سامنے کیا مذہبی بہانہ چلے
چلیں گے ہم بھی اسی رخ جدھر زمانہ چلے
خدا کے واسطے ساقی یہی نگاہ کرم
چلا ہے دور تو پھر کیوں رکے چلا نہ چلے
کھلا ہے باغ قناعت میں غنچۂ خاطر
خدا بچائے کہیں حرص کی ہوا نہ چلے
فروغ عشق کا بے آہ کے نہیں ممکن
نہ پھیلے بوئے گلستاں اگر ہوا نہ چلے
کھلے کواڑ جو کمرے کے پھر کسی کو کیا
یہ حکم بھی تو ہوا ہے کہ راستہ نہ چلے
امید حور میں مسلم تو ہو گیا ہوں مگر
خدا ہی ہے کہ جو مجھ سے یہ پنجگانہ چلے
خودی کی حس سے بھی ہوتا ہے انتشار اکبرؔ
کہاں رہوں کہ مجھے بھی مرا پتہ نہ چلے