وہ اٹھے تو بہت گھر سے اپنے مرے گھر میں مگر کبھی آ نہ سکے
Akbar Allahabadi (1846–1921)وہ اٹھے تو بہت گھر سے اپنے مرے گھر میں مگر کبھی آ نہ سکے
وہ نسیم مراد چلے بھی تو کیا کہ جو غنچۂ دل کو کھلا نہ سکے
شب و روز جو رہتے تھے پیش نظر بڑے لطف سے ہوتی تھی جن میں بسر
یہ مرے ہی نہ آنے کا سب ہے اثر کہ رقیبوں سے دبتے ہو آٹھ پہر
مرے حال پہ چشم کرم جو رہے کوئی آپ سے آنکھ ملا نہ سکے
کیا جذبۂ عشق نے میرے اثر رہی غیرت حسن پہ ان کی نظر
پس پردہ صدا تو سنائی مجھے مگر اپنا جمال دکھا نہ سکے
رہا شہرۂ عشق کا یاں مجھے ڈر انہیں اپنے پرائے کا خوف و خطر
وہی دل کی تڑپ وہی درد جگر ہوا توبۂ عشق کا کچھ نہ اثر
تری شکل جو آنکھوں میں پھرتی رہی تری یاد بھی دل سے بھلا نہ سکے
ہے خدا کی جناب میں صبح و مسا یہی اکبرؔ خستہ جگر کی دعا
کہ ہمارے سوا بت ہوش ربا کوئی سینہ سے تجھ کو لگا نہ سکے