مسمریزم کے عمل میں دہر اب مشغول ہے
Akbar Allahabadi (1846–1921)مسمریزم کے عمل میں دہر اب مشغول ہے
مغرب و مشرق میں اک عامل ہے اک معمول ہے
جسم و جاں کیسے کہ عقلوں میں تغیر ہو چلا
تھا جو مکروہ اب پسندیدہ ہے اور مقبول ہے
مستند پرتو وہ ہے مغرب سے جو منقول ہے
گلشن ملت میں پامالی سرافرازی ہے اب
جو خزاں دیدہ ہے برگ اپنی نظر میں پھول ہے
کوئی مرکز ہی نہیں پیدا ہو پھر کیوں کر محیط
جھول ہے پیچیدگی ہے ابتری ہے بھول ہے