منتشر ذروں کو یکجائی کا جوش آیا تو کیا
Akbar Allahabadi (1846–1921)منتشر ذروں کو یکجائی کا جوش آیا تو کیا
چار دن کے واسطے مٹی کو ہوش آیا تو کیا
عارضی ہیں موسم گل کی یہ ساری مستیاں
لالہ گلشن میں اگر ساغر بہ دوش آیا تو کیا
دور آخر بزم دنیا کا ہے جام خون دل
طیش اس محفل میں بن کر بادہ نوش آیا تو کیا
حد حیرت ہی میں رکھا ضعف نے ادراک کو
پیکر خاکی کو اس عالم میں ہوش آیا تو کیا