Poetry
- دیکھو باہر آگ لگی ہےدروازے پر نئی رتوں کی خوشبو روتی ہےSaleem Kausar
- آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیںروزن حبس میں ٹھہری ہوئی زنداں کی ہواSaleem Kausar
- تم ہی اچھے تھے کسی سے کبھی تکرار نہ کیتم کہ تکرار کے خوگر بھی نہ تھےSaleem Kausar
- سال کی آخری شبمیرے کمرے میں کتابوں کا ہجومSaleem Kausar
- سمندر چاندنی میں رقص کرتا ہےپرندے بادلوں میں چھپ کے کیسے گنگناتے ہیںSaleem Kausar
- ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکاجو تیرا لہجہSaleem Kausar
- اسے کہناکبھی ملنے چلا آئےSaleem Kausar
- امن کی چادر میںبارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کےSaleem Kausar
- بام و در چپ سادھ چکے ہیںطاق میں اک مٹی کا دیا اندھیاروں سے باتیں کرتا ہےSaleem Kausar
- تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نےمیں لفظ سوچوں میں لفظ بولوں میں لفظ لکھوںSaleem Kausar
- ٹوٹے پھوٹے وعدوں سےخوش فہمیوں کا کشکول سجائےSaleem Kausar
- جو تو تصویر کرتا ہےجو میں تحریر کرتا ہوںSaleem Kausar
- صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میںبولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہےSaleem Kausar
- عظیم ماںتو نے اپنے بیٹوں کوSaleem Kausar
- محبت ڈائری ہرگز نہیں ہےجس میں تم لکھوSaleem Kausar
- میری ننھی بچی مجھ سے کہتی ہےابو رات گئے تک آخر جاگتے کیوں ہوSaleem Kausar
- وہی کار دنیاوہی کار دنیا کے اپنے جھمیلےSaleem Kausar
- ہوا بند ہےسانس آتی نہیںSaleem Kausar
- بہت دنوں میں کہیں ہجر ماہ و سال کے بعدرکا ہوا ہے زمانہ ترے وصال کے بعدSaleem Kausar
- زوروں پہ سلیمؔ اب کے ہے نفرت کا بہاؤجو بچ کے نکل آئے گا تیراک وہی ہےSaleem Kausar
- سائے گلی میں جاگتے رہتے ہیں رات بھرتنہائیوں کی اوٹ سے جھانکا نہ کر مجھےSaleem Kausar
- وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیںاب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیںSaleem Kausar