Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. دیکھو باہر آگ لگی ہےدروازے پر نئی رتوں کی خوشبو روتی ہےSaleem Kausar
  2. آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیںروزن حبس میں ٹھہری ہوئی زنداں کی ہواSaleem Kausar
  3. تم ہی اچھے تھے کسی سے کبھی تکرار نہ کیتم کہ تکرار کے خوگر بھی نہ تھےSaleem Kausar
  4. سال کی آخری شبمیرے کمرے میں کتابوں کا ہجومSaleem Kausar
  5. سمندر چاندنی میں رقص کرتا ہےپرندے بادلوں میں چھپ کے کیسے گنگناتے ہیںSaleem Kausar
  6. ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکاجو تیرا لہجہSaleem Kausar
  7. اسے کہناکبھی ملنے چلا آئےSaleem Kausar
  8. امن کی چادر میںبارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کےSaleem Kausar
  9. بام و در چپ سادھ چکے ہیںطاق میں اک مٹی کا دیا اندھیاروں سے باتیں کرتا ہےSaleem Kausar
  10. تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نےمیں لفظ سوچوں میں لفظ بولوں میں لفظ لکھوںSaleem Kausar
  11. ٹوٹے پھوٹے وعدوں سےخوش فہمیوں کا کشکول سجائےSaleem Kausar
  12. جو تو تصویر کرتا ہےجو میں تحریر کرتا ہوںSaleem Kausar
  13. صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میںبولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہےSaleem Kausar
  14. عظیم ماںتو نے اپنے بیٹوں کوSaleem Kausar
  15. محبت ڈائری ہرگز نہیں ہےجس میں تم لکھوSaleem Kausar
  16. میری ننھی بچی مجھ سے کہتی ہےابو رات گئے تک آخر جاگتے کیوں ہوSaleem Kausar
  17. وہی کار دنیاوہی کار دنیا کے اپنے جھمیلےSaleem Kausar
  18. ہوا بند ہےسانس آتی نہیںSaleem Kausar
  19. بہت دنوں میں کہیں ہجر ماہ و سال کے بعدرکا ہوا ہے زمانہ ترے وصال کے بعدSaleem Kausar
  20. زوروں پہ سلیمؔ اب کے ہے نفرت کا بہاؤجو بچ کے نکل آئے گا تیراک وہی ہےSaleem Kausar
  21. سائے گلی میں جاگتے رہتے ہیں رات بھرتنہائیوں کی اوٹ سے جھانکا نہ کر مجھےSaleem Kausar
  22. وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیںاب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیںSaleem Kausar