Poetry
- ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہےزردار کو بھی فروتنی بہتر ہےMir Anees (1803–1874)
- جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریںادنیٰ اعلیٰ سب اس کی توقیر کریںMir Anees (1803–1874)
- جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہےہر لمحہ فزوں اس میں ضیا ہوتی ہےMir Anees (1803–1874)
- جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھاہم نے نہیں رتبہ یہ کسی کا دیکھاMir Anees (1803–1874)
- داماد رسول کی شہادت ہے آجمعصوموں پہ فاطمہ کے آفت ہے آجMir Anees (1803–1874)
- دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغجاتا نہیں ہرگز دل ناشاد کا داغMir Anees (1803–1874)
- دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارباب زیست کے دن نباہتا ہوں یاربMir Anees (1803–1874)
- دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھاآنکھوں سے جہاں میں خواب کیا کیا دیکھاMir Anees (1803–1874)
- دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھیہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھیMir Anees (1803–1874)
- راہی طرف عالم بالا ہوں میںدنیا سے عدم کو جانے والا ہوں میںMir Anees (1803–1874)
- رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہےوہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہےMir Anees (1803–1874)
- سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرحہر ایک سے جھک قوس خمیدہ کی طرحMir Anees (1803–1874)
- شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگاآنسو جو گرے گا شکل گوہر ہوگاMir Anees (1803–1874)
- ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تکقربان شہہ جن و بشر ہیں اب تکMir Anees (1803–1874)
- عریاں سر خاتون زمن ہے اب تکناموس پہ ایذا و محن ہے اب تکMir Anees (1803–1874)
- غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گارونا ہی غم شاہ میں کام آئے گاMir Anees (1803–1874)
- فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملیبیگانے سے راحت نہ یگانے سے ملیMir Anees (1803–1874)
- کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھامعلوم ہمیں اپنا سرانجام نہ تھاMir Anees (1803–1874)
- کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوسجی بھر کے کیا نہ شہ کا ماتم افسوسMir Anees (1803–1874)
- کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیحسبحان اللہ کیا بنائی تسبیحMir Anees (1803–1874)
- کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرےجب ملک کو چرخ پیر برباد کرےMir Anees (1803–1874)
- گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئےمرحوم ہوئے جوار رحمت میں گئےMir Anees (1803–1874)
- گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوںیا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوںMir Anees (1803–1874)
- گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہےبلبل کی زبان پہ گفتگو تیری ہےMir Anees (1803–1874)
- مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میںکیا قبر کا خوف بو ترابی ہوں میںMir Anees (1803–1874)
- ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آوازپر تعزیہ دار شاہ دیں ہے آوازMir Anees (1803–1874)
- ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکفہے روز خلافت شہنشاہ نجفMir Anees (1803–1874)
- ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تکبیدار ہے عالم پہ نظر ہے جب تکMir Anees (1803–1874)
- ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکلدل نے نہ کسی امر کو جانا مشکلMir Anees (1803–1874)
- جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نےجلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نےMir Anees (1803–1874)
- دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہےذروں میں روشنئ تجلئ طور ہےMir Anees (1803–1874)
- آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہےظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہےMir Anees (1803–1874)
- آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہےصبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہےMir Anees (1803–1874)
- بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔایک دو لاکھ سواروں میں بہادر تھا حُرؔMir Anees (1803–1874)
- جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوافوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہواMir Anees (1803–1874)
- جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئیپردیس میں سادات پہ، آفت عجب آئیMir Anees (1803–1874)
- فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہےسادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہےMir Anees (1803–1874)
- کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئےلاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئےMir Anees (1803–1874)
- نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میریناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میریMir Anees (1803–1874)
- یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کراے ابرِ کرم خشک زراعت پہ کرم کرMir Anees (1803–1874)