Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. خوش گوار موسم میںان گنت تماشائیIftikhar Arif (b. 1943)
  2. دشت بے نخیل میںباد بے لحاظ نےIftikhar Arif (b. 1943)
  3. زمین سنگ سے سورج اگانے والے ہاتھکسے خبر تھی کہ اس شہر میں قلم ہوں گےIftikhar Arif (b. 1943)
  4. عجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  5. وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پرسارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  6. سپاہی آج بھی کوئی نہیں آیاکسی نے پھول ہی بھیجےIftikhar Arif (b. 1943)
  7. اب کے بار پھرموج بہار نےIftikhar Arif (b. 1943)
  8. ابھی کچھ دن لگیں گےدل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میںIftikhar Arif (b. 1943)
  9. اک خواہش تھیکبھی ایسا ہوIftikhar Arif (b. 1943)
  10. اور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  11. اے شہر رسن بستہکیا یہ تری منزل ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  12. بچپن کی گلیوں میں جن جن گھروں کے شیشے میری گیند سے ٹوٹے تھےان سب کی کرچیں کبھی کبھی میری آنکھوں میں چبھنے لگتی ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  13. پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کیڈور ہلکی تھیIftikhar Arif (b. 1943)
  14. تم نے جو پھول مجھے رخصت ہوتے وقت دیا تھاوہ نظم میں نے تمہاری یادوں کے ساتھ لفافے میں بند کر کے رکھ دی تھیIftikhar Arif (b. 1943)
  15. جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیںتا ابد روشن رہیں گیIftikhar Arif (b. 1943)
  16. جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتے ہیںکس طرح کے پھولوں میںIftikhar Arif (b. 1943)
  17. خداوند مجھے توفیق دے میں ایسے زندہ لفظ لکھوںجو نہ لکھوں میں تو دنیا بانجھ ہو جائےIftikhar Arif (b. 1943)
  18. دل کی آنکھ سے خیر کے سارے روشن منظر دیکھنے والو!حد نظر تک پھیلی ہوئی سب روشنیوں سارے رنگوں کوIftikhar Arif (b. 1943)
  19. رات دن خواب بنتی ہوئی زندگیدل میں نقد اضافی کی لوIftikhar Arif (b. 1943)
  20. شاخ زیتون پر کم سخن فاختاؤں کے اتنے بسیرے اجاڑے گئےاور ہوا چپ رہیIftikhar Arif (b. 1943)
  21. عجب دن تھےعجب نامہرباں دن تھے بہت نامہرباں دن تھےIftikhar Arif (b. 1943)
  22. عجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھیIftikhar Arif (b. 1943)
  23. علی افتخارؔ کی ماں سے میں نے بتا دیا ہے کہ اپنے بیٹے کوتتلیوں کے قریب جانے سے روکئےIftikhar Arif (b. 1943)
  24. کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہےنہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  25. کسے خبر تھیایک مسافر مستقبل زنجیر کرے گا اور سفر کے سب آداب بدل جائیں گےIftikhar Arif (b. 1943)
  26. گل دانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نےرات اپنی آغوش میں لے کر اتنا بھینچاIftikhar Arif (b. 1943)
  27. مرا ذہن دل کا رفیق ہےمرا دل رفیق ہے جسم کاIftikhar Arif (b. 1943)
  28. مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہےایک خواب ہے اور تم ہوIftikhar Arif (b. 1943)
  29. مرے شکاریو امان چاہتا ہوں میںبس اب سلامتیٔ جاں کی حد تلک اڑان چاہتا ہوں میںIftikhar Arif (b. 1943)
  30. میرے آبا و اجداد نے حرمت آدمی کے لیےتا ابد روشنی کے لیےIftikhar Arif (b. 1943)
  31. میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیںنہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  32. میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں کہ جس کے بیٹوں نےجو کہا اس پہ جان دے دیIftikhar Arif (b. 1943)
  33. ہنڈولا جھولنے والےزمیں سے کٹ کے اونچا جھولنے کی چاہ رکھتے ہیں تو پھر جھولیںIftikhar Arif (b. 1943)
  34. ''ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہےکوئی تو ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
  35. یہ جبر ماہ و سال میں گھری ہوئی زمیں مری گواہ ہےجن کی بازگشت سے مرے وجود کی صداقتوں کا انکشاف ہوIftikhar Arif (b. 1943)
  36. بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئیIftikhar Arif (b. 1943)
  37. بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیںاور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  38. تم سے بچھڑ کر زندہ ہیںجان بہت شرمندہ ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  39. خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہےاپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  40. دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرفایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دیIftikhar Arif (b. 1943)
  41. دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھاب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیںIftikhar Arif (b. 1943)
  42. راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جااب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والیIftikhar Arif (b. 1943)
  43. زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتےمیں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوںIftikhar Arif (b. 1943)
  44. ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گاہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گاIftikhar Arif (b. 1943)
  45. کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میںعجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میںIftikhar Arif (b. 1943)
  46. گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلومماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والیIftikhar Arif (b. 1943)
  47. وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھیاسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھاIftikhar Arif (b. 1943)
  48. وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصلنئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھاIftikhar Arif (b. 1943)
  49. ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میںایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دیIftikhar Arif (b. 1943)
  50. یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیایہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میںIftikhar Arif (b. 1943)