Poetry
- خوش گوار موسم میںان گنت تماشائیIftikhar Arif (b. 1943)
- دشت بے نخیل میںباد بے لحاظ نےIftikhar Arif (b. 1943)
- زمین سنگ سے سورج اگانے والے ہاتھکسے خبر تھی کہ اس شہر میں قلم ہوں گےIftikhar Arif (b. 1943)
- عجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پرسارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- سپاہی آج بھی کوئی نہیں آیاکسی نے پھول ہی بھیجےIftikhar Arif (b. 1943)
- اب کے بار پھرموج بہار نےIftikhar Arif (b. 1943)
- ابھی کچھ دن لگیں گےدل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میںIftikhar Arif (b. 1943)
- اک خواہش تھیکبھی ایسا ہوIftikhar Arif (b. 1943)
- اور ہر طرف سکون ہےسکون ہی سکون ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- اے شہر رسن بستہکیا یہ تری منزل ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- بچپن کی گلیوں میں جن جن گھروں کے شیشے میری گیند سے ٹوٹے تھےان سب کی کرچیں کبھی کبھی میری آنکھوں میں چبھنے لگتی ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کیڈور ہلکی تھیIftikhar Arif (b. 1943)
- تم نے جو پھول مجھے رخصت ہوتے وقت دیا تھاوہ نظم میں نے تمہاری یادوں کے ساتھ لفافے میں بند کر کے رکھ دی تھیIftikhar Arif (b. 1943)
- جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیںتا ابد روشن رہیں گیIftikhar Arif (b. 1943)
- جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتے ہیںکس طرح کے پھولوں میںIftikhar Arif (b. 1943)
- خداوند مجھے توفیق دے میں ایسے زندہ لفظ لکھوںجو نہ لکھوں میں تو دنیا بانجھ ہو جائےIftikhar Arif (b. 1943)
- دل کی آنکھ سے خیر کے سارے روشن منظر دیکھنے والو!حد نظر تک پھیلی ہوئی سب روشنیوں سارے رنگوں کوIftikhar Arif (b. 1943)
- رات دن خواب بنتی ہوئی زندگیدل میں نقد اضافی کی لوIftikhar Arif (b. 1943)
- شاخ زیتون پر کم سخن فاختاؤں کے اتنے بسیرے اجاڑے گئےاور ہوا چپ رہیIftikhar Arif (b. 1943)
- عجب دن تھےعجب نامہرباں دن تھے بہت نامہرباں دن تھےIftikhar Arif (b. 1943)
- عجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھیIftikhar Arif (b. 1943)
- علی افتخارؔ کی ماں سے میں نے بتا دیا ہے کہ اپنے بیٹے کوتتلیوں کے قریب جانے سے روکئےIftikhar Arif (b. 1943)
- کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہےنہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- کسے خبر تھیایک مسافر مستقبل زنجیر کرے گا اور سفر کے سب آداب بدل جائیں گےIftikhar Arif (b. 1943)
- گل دانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نےرات اپنی آغوش میں لے کر اتنا بھینچاIftikhar Arif (b. 1943)
- مرا ذہن دل کا رفیق ہےمرا دل رفیق ہے جسم کاIftikhar Arif (b. 1943)
- مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہےایک خواب ہے اور تم ہوIftikhar Arif (b. 1943)
- مرے شکاریو امان چاہتا ہوں میںبس اب سلامتیٔ جاں کی حد تلک اڑان چاہتا ہوں میںIftikhar Arif (b. 1943)
- میرے آبا و اجداد نے حرمت آدمی کے لیےتا ابد روشنی کے لیےIftikhar Arif (b. 1943)
- میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیںنہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں کہ جس کے بیٹوں نےجو کہا اس پہ جان دے دیIftikhar Arif (b. 1943)
- ہنڈولا جھولنے والےزمیں سے کٹ کے اونچا جھولنے کی چاہ رکھتے ہیں تو پھر جھولیںIftikhar Arif (b. 1943)
- ''ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہےکوئی تو ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ جبر ماہ و سال میں گھری ہوئی زمیں مری گواہ ہےجن کی بازگشت سے مرے وجود کی صداقتوں کا انکشاف ہوIftikhar Arif (b. 1943)
- بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئیIftikhar Arif (b. 1943)
- بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیںاور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- تم سے بچھڑ کر زندہ ہیںجان بہت شرمندہ ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہےاپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرفایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دیIftikhar Arif (b. 1943)
- دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھاب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیںIftikhar Arif (b. 1943)
- راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جااب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والیIftikhar Arif (b. 1943)
- زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتےمیں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوںIftikhar Arif (b. 1943)
- ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گاہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گاIftikhar Arif (b. 1943)
- کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میںعجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میںIftikhar Arif (b. 1943)
- گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلومماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والیIftikhar Arif (b. 1943)
- وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھیاسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھاIftikhar Arif (b. 1943)
- وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصلنئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھاIftikhar Arif (b. 1943)
- ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میںایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دیIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیایہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میںIftikhar Arif (b. 1943)