شاخ زیتون پر کم سخن فاختاؤں کے اتنے بسیرے اجاڑے گئے

Iftikhar Arif (b. 1943)

شاخ زیتون پر کم سخن فاختاؤں کے اتنے بسیرے اجاڑے گئے

اور ہوا چپ رہی

اور ہوا چپ رہی

زرد پرچم اڑاتا ہوا لشکر بے اماں گل زمینوں کو پامال کرتا رہا

اور ہوا چپ رہی

آرزو مند آنکھیں بشارت طلب دل دعاؤں کو اٹھے ہوئے ہاتھ سب بے ثمر رہ گئے

اور ہوا چپ رہی

اور تب حبس کے قہرماں موسموں کے عذاب ان زمینوں پہ بھیجے گئے

اور منادی کرا دی گئی

یہ عذاب ان زمینوں پہ آتے رہیں گے