کسے خبر تھی

Iftikhar Arif (b. 1943)

کسے خبر تھی

ایک مسافر مستقبل زنجیر کرے گا اور سفر کے سب آداب بدل جائیں گے

کسے یقیں تھا

ہمیں خبر تھی

ہمیں یقیں تھا

تبھی تو ہم نے توڑ دیا تھا رشتۂ شہرت عام

تبھی تو ہم نے چھوڑ دیا تھا شہر نمود و نام

لیکن اب مرے اندر کا کمزور آدمی شام سویرے مجھے ڈرانے آ جاتا ہے

نئے سفر میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے سب سمجھانے آ جاتا ہے