''ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے
Iftikhar Arif (b. 1943)''ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
جو خلعت انتساب پہنا کے وقت کی رو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
حجاب کو رمز نور کہتا ہے اور پرتو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا''
''کوئی نہیں ہے
کہیں نہیں ہے
اس کو اندر سے مار دیتے ہیں''
جو بادلوں کو سمندروں پر کشید کرتا ہے اور بطن صدف میں خورشید ڈھالتا ہے
وہ سنگ میں آگ، آگ میں رنگ، رنگ میں روشنی کے امکان رکھنے والا
وہ خاک میں صوت، صوت میں حرف، حرف میں زندگی کے سامان رکھنے والا
نہیں کوئی ہے
کہیں کوئی ہے
کوئی تو ہوگا''