Poetry
- روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدالالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیداHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوےباقی جو ہیں سو قبر میں مردے بھرے ہوئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کارہروؤں کی موت ہے خس پوش ہونا چاہ کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریےمنزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالےہمت مری کہتی ہے کہ احسان بلا لےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیاکہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- شب فرقت میں یار جانی کیدرد پہلو نے مہربانی کیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھابغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہےہند میں میں ہوں پرستاں میں مرا افسانہ ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئیدیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کےعمر ہوتی ہے بسر گنبد میں بسم اللہ کےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیااندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہےباہر نہیں ہے یوسف اسی کارواں میں ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سےپیوند نہیں چاک گریباں کو رفو سےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئےکس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کاآفتاب اک زرد پتا ہے مرے گل زار کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- غیرت مہر رشک ماہ ہو تمخوب صورت ہو بادشاہ ہو تمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گاکعبۂ مقصود تک مجھ کو خدا لے جائے گاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑاخدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخخال مشکیں دل فرعوں ید بیضا ہے وہ رخHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھانہ سرو باغ کو اتنا کشیدہ ہونا تھاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- قصۂ سلسلۂ زلف نہ کہنا بہترپیچ در پیچ ہے خاموش ہی رہنا بہترHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہےسانپ کو مار کے گنجینۂ زر لیتا ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتایار ملتا ہے تو پہلو ہی میں ہے مل جاتاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہےہر کوئی یاں اپنے اپنے پیرہن میں مست ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیریجس کو سنتا ہوں وہ کہتا ہے کہانی تیریHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سےلب بام آ کے کھڑے ہو نہ کھلے بالوں سےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلاکبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکےمستوں کو جوش صوفیوں کو حال آ چکےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتاقبائے گل سے اسے استعارہ کیا کرتاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالےیہ شاخ وہ نہیں جو بار ثمر سنبھالےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایابرابر گردن شاہ و گدا دونوں کو خم پایاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیںوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہےالٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھاشیفتہ تیرا ہی تھا جو ثابت و سیارہ تھاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- موت مانگوں تو رہے آرزوئے خواب مجھےڈوبنے جاؤں تو دریا ملے پایاب مجھےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- میں نے عریاں تجھے اے رشک قمر دیکھ لیادیدہ و دل کو جو تھا مد نظر دیکھ لیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفیدچشم بدبیں کو کرے گردش ایام سفیدHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیےیہ جامہ قطع ہے ترے اندام کے لیےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیےورنہ کوئی نقاب نہیں یار کے لیےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیداسیکڑوں کوس نہیں صورت انساں پیداHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہمنکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہواجو پہنی پھولوں کی بدھی تو درد شانہ ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہےتری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہےخزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کاکوڑے کا ہو گیا ہے کٹورا گلاب کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیارات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئےنفس امارہ کی گردن کو مروڑا چاہئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتےہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہےزمیں یاں کی چہارم آسماں ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)