Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آگ جنگل میں لگی تھی لیکنبستیوں میں بھی دھواں جا پہنچاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  2. ابا تو چلے گئے ہیں دفترامی کو بخار آ رہا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  3. اب نہ پھیلاؤں گا میں دست سوالمیں نے دیکھا ہے کہ مجبور ہے توAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  4. اپنے ماضی کے گھنے جنگل سےکون نکلے گا! کہاں نکلے گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  5. اک بکس کہیں سے لائیں گے روغن سے اسے چمکائیں گےاک ڈبے میں باسی پھلکوں کا اک انبار لگائیں گےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  6. اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  7. ایک رقاصہ تھی کس کس سے اشارے کرتیآنکھیں پتھرائی اداؤں میں توازن نہ رہاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  8. بہت شدید تشنج میں مبتلا لوگویہاں سے دور محبت کا ایک قریہ ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  9. تجھ سے اک عمر کا پیماں تھا مگر میرا نصیبانقلابات کا محکوم ہوا جاتا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  10. تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہےتو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  11. جنگل جنگل آگ لگی ہے بستی بستی ویراں ہےکھیتی کھیتی راکھ اڑتی ہے دنیا ہے کہ بیاباں ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  12. چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانےخمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظرAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  13. چھٹپٹے کے غرفے میںلمحے اب بھی ملتے ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  14. دوست کہتے ہیں ترے دشت وفا میں کیسےاتنی خوشبو ہے مہکتا ہو گلستاں جیسےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  15. دوستوتم تو کندھوں سے اوپر نظر ہی نہیں آ رہے ہوAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  16. رات دن سلسلۂ عمر رواں کی کڑیاںکل جہاں روح جھلس جاتی تھیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  17. رات کی اڑتی ہوئی راکھ سے بوجھل ہے نسیمیوں عصا ٹیک کے چلتی ہے کہ رحم آتا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  18. راستہ نہیں ملتامنجمد اندھیرا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  19. روح لبوں تک آ کر سوچے کیسے چھوڑوں قریۂ جاںیوسف قصر شہی میں بھی کب بھولا کنعاں کی گلیاںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  20. ریت پر ثبت ہیں یہ کس کے قدمحسن کو نرم خرامی کی قسمAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  21. ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کارایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  22. ریستوراں میں سجے ہوئے ہیں کیسے کیسے چہرےقبروں کے کتبوں پر جیسے مسلے مسلے سہرےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  23. سایہ جب بھی ڈھلتا ہےکچھ نہ کچھ بدلتا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  24. سر برآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میںچاند بلور کی ٹوٹی ہوئی چوڑی کی طرح اٹکا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  25. شاعر اب تک تو یہ کہتا تھا کہ میرا محبوبکچھ اس انداز سے چپ چاپ مرے پاس آیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  26. شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرامجھے تلاش کروAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  27. غیر کی ہو کے بھی تم میری محبت چاہواس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ تارے کیسےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  28. گلیوں کی شمعیں بجھ گئیں اور شہر سونا ہو گیابجلی کا کھمبا تھام کر بانکا سپاہی سو گیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  29. مجھے تو مژدۂ کیفیت دوامی دےمرے خدا مجھے اعزاز ناتمامی دےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  30. مجھے جمال بدن کا ہے اعتراف مگرمیں کیا کروں کہ ورائے بدن بھی دیکھتا ہوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  31. زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیںدیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  32. کتنی ویران ہے یہ محفل شبنہ ستارے نہ چراغAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  33. مرے آقا کو گلہ ہے کہ مری حق گوئیراز کیوں کھولتی ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  34. مہرباں رات نےاپنی آغوش میںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  35. تدفینچار طرف سناٹے کی دیواریں ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  36. چلو اک رات تو گزریچلو سفاک ظلمت کے بدن کا ایک ٹکڑا تو کٹاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  37. مٹیالے مٹیالے بادل گھوم رہے ہیں میدانوں کے پھیلاؤ پردریا کی دیوانی موجیں ہمک ہمک کر ہنس دیتی ہیں اک ناؤ پرAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  38. مجھے سمیٹومیں ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  39. میری یادوں میں سے ایک یاد مجھےتا دم مرگ نہیں بھولے گیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  40. میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوںیہی آگہی مرا لطف ہے مرا کرب ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  41. وہ فسانہ جسے تاریکی نے دہرایا ہےمیری آنکھوں نے سناAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  42. ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہےکہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  43. یوم مزاجی یاروں کیسب میری دیکھی بھالیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  44. اک سفینہ ہے تری یاد اگراک سمندر ہے مری تنہائیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  45. جکڑی ہوئی ہے ان میں مری ساری کائناتگو دیکھنے میں نرم ہے تیری کلائیاںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  46. صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگگٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  47. غم جاناں غم دوراں کی طرف یوں آیاجانب شہر چلے دختر دہقاں جیسےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  48. فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نےجب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  49. کس دل سے کروں وداع تجھ کوٹوٹا جو ستارہ بجھ گیا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  50. لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیںمیں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیراAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)