دوستو
Ahmad Nadeem Qasmi (1916–2006)دوستو
تم تو کندھوں سے اوپر نظر ہی نہیں آ رہے ہو
چلو
اپنے چہرے ندامت کی المایوں سے نکالو
انہیں جھاڑ کر گردنوں پر رکھو
تم ادھورے نہیں ہو تو پورے دکھائی تو دو
دوستو
تم تو کندھوں سے اوپر نظر ہی نہیں آ رہے ہو
چلو
اپنے چہرے ندامت کی المایوں سے نکالو
انہیں جھاڑ کر گردنوں پر رکھو
تم ادھورے نہیں ہو تو پورے دکھائی تو دو