خم دار اور گیسوئے خم دار ہو گیا
Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)خم دار اور گیسوئے خم دار ہو گیا
ابروئے یار کا یہ طرف دار ہو گیا
بے عشق یک مرض تھی مجھے اپنی زندگی
اچھا ہوا جو عشق کا آزار ہو گیا
دل اس کے عشق سے کبھی ہمت نہ ہارتا
تیغ فراق سے جگر افگار ہو گیا
ایمان اور کفر کے جھگڑوں نے یہ کیا
اک دل دو آفتوں میں گرفتار ہو گیا
وعدے کی رات آ کے وہ کیا سوئے میرے گھر
خوابیدہ بخت تھا مرا بیدار ہو گیا
کیونکر نہ کھائیں خار عدو اس بہار سے
وہ رشک گل گلے کا مرے ہار ہو گیا
بیٹھے بٹھائے گھر میں یہ دولت ہوئی نصیب
اس ماہ وش کا خواب میں دیدار ہو گیا
بازار عشق میں یہی سودا گیا ہے آج
ایمان دے کے اس کا خریدار ہو گیا
کیا اس کو سمجھے ہو وہ پرانا ہے بادہ کش
کب پارسا تھا شادؔ جو مے خوار ہو گیا