جام مئے الست سے سرشار ہو گئے

Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)

جام مئے الست سے سرشار ہو گئے

یعنی رہین خانۂ خمار ہو گئے

مدہوش ہو کے ہوش میں آنا غضب ہوا

دنیا کے کاروبار سے بے کار ہو گئے

یا رب ہماری داد کی اچھی دوا ملی

ہم خواہش طبیب میں بیمار ہو گئے

دل میں ہوائے گیسوئے دل دار کیا بسی

بیٹھے بٹھائے مفت گرفتار ہو گئے

ان لن ترانیوں سے تری آج سیکڑوں

موسیٰ کی طرح طالب دیدار ہو گئے

لے کر عزیز مصر وہ بازار عشق میں

کیا خوب اپنے آپ خریدار ہو گئے

کافر ہوئے ہیں شادؔ ہم اس بت کے واسطے

شکر خدا کہ صاحب زنار ہو گئے