تا چند اس کے جور کے صدمے اٹھائے دل

Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)

تا چند اس کے جور کے صدمے اٹھائے دل

پتھر نہیں ہے سینے میں جو تاب لائے دل

مشہور اس کا ہو کے میں بدنام ہو گیا

اب رفتہ رفتہ دیکھیے کیا کیا دکھائے دل

آئے اگر وہ غیرت گل میرے باغ میں

دل شاد باغبان ہو اور پھول جائے دل

کس طرح بے وفا پہ کرے کوئی اعتبار

کس طرح اس سے کوئی پھر اپنا لگائے دل

در پردہ اپنا کام یہ کرتی ہے رات دن

قاتل کی تیغ ناز سے کیونکر بچائے دل

ہم اس سے کیا ملے کہ بس اپنے سے کھو گئے

تھی عاشقی میں اس کی یہی تو سزائے دل

میں بیچتا ہوں مفت جو ہو مشتری کوئی

ارزاں ہو اس سے شادؔ کہو کیا بہائے دل