کہوں کس سے بجز تیرے خدایا آرزو دل کی

Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)

کہوں کس سے بجز تیرے خدایا آرزو دل کی

مراد اپنی ہمیشہ تجھ سے ہی بس میں نے حاصل کی

سنبھلنا ہوتا مشکل غیر حالت ہوتی قاتل کی

بہت اچھا ہوا دیکھی تڑپ اس نے نہ بسمل کی

تو ہی معبود ہے میرا تو ہی مطلوب ہے میرا

یہی مطلوب ہے مجھ کو تمنا ہے یہی دل کی

غرض طوف حرم سے کیا ہر اک ذرے میں ہے جلوہ

ضرورت کچھ نہیں سالک کو اس ویران منزل کی

اگر چاہے کہ اوج بخت حاصل ہو نصیحت سن

وفور خاکساری سے یہ دولت سب نے حاصل کی

غضب ہے امتحاں میں میرے آگے قتل ہو کوئی

گلے پر پھیر لوں گا چھین کر تلوار قاتل کی

خزاں میں دیکھ کر رنگ چمن کیا رنج ہوتا ہے

دکھا دیتی ہیں دل کو ہائے فریادیں عنادل کی

ذرا ٹھہرو فرشتو کچھ تو یاں آرام لینے دو

اٹھا کر آ رہا ہوں سختیاں ہستی کی منزل کی

کبھی بے چین رہتا ہے پھڑکتا ہے کبھی بر میں

بتاؤں کیا تمہیں میں کیسی حالت ہے مرے دل کی

مکاں میں میرے تم آئے بڑی یہ مہربانی کی

یہی خواہش تمنا بھی یہی تھی بس مرے دل کی

جسے سب شادؔ کہتے ہیں ترے در کا بھکاری ہے

کرے گا تو ہی یا رب پوری حاجت اپنے سائل کی