ہٹ دھرمی کی کہوں کہ میں ایمان کی کہوں
Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)ہٹ دھرمی کی کہوں کہ میں ایمان کی کہوں
اپنا کروں بیاں کہ تری شان کی کہوں
دل میں یہ اب ٹھنی ہے کہ ایمان کی کہوں
کچھ کر کے مختصر میں تری شان کی کہوں
میری جو وہ سنیں کبھی موقع مجھے ملے
سب دل کا حال کیفیت ارمان کی کہوں
پابند دام زلف ہے آشفتہ دل مرا
کیا سرگزشت ایسے پریشان کی کہوں
میں بد حواس ہو کے بھی اوسان کی کہوں
کچھ دین کی سناؤں کہ دنیا کی داستان
کچھ قدسیوں کی لکھوں کہ انسان کی کہوں
میں دھیان میں ہوں اس کے وہ ہے رازداں مرا
کچھ میزباں کی لکھوں کہ مہمان کی کہوں
یاں ہے بھروسہ حق پہ وہاں عقل پر مدار
حالت کہوں گدا کی کہ سلطان کی کہوں
حق کہنے والوں کے لئے ہے دار کی سزا
بن جائے جان پر اگر ایمان کی کہوں
میں ہوں کتاب معرفت حق کا درس یاب
اب کیا کسی سے وید کی قرآن کی کہوں
ہے شادؔ پر بہار یہ جوش جنوں مرا
دامن کی اب کہوں کہ گریبان کی کہوں