Poetry
Hazaj Musaddas Akhrab Maqbuz Mahzuf
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف- کیا طرز کلام ہو گئی ہےہر بات پیام ہو گئی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- خود دیکھ خودی کو او خود آراپہچان خدا کو بھی خدا راQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا آ کے جہاں میں کر گئے ہماک داغ جگر پہ دھر گئے ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
- برکھا رتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- تبلیغ پیام ہو گئی ہےحجت بھی تمام ہو گئی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- قوس قزحIsmail Meeruthi (1844–1917)
- بارش کا پہلا قطرہIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ایک وقت میں ایک کامIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہے وصف ترا محیط اعظمیاں تاب کسے شناوری کیIsmail Meeruthi (1844–1917)
- پایا جو تجھے تو کھو گئے ہمبیدار ہوئے تو سو گئے ہمRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پی لی ہم نے شراب پی لیتھی آگ مثال آب پی لیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جس دن سے حرام ہو گئی ہےمے خلد مقام ہو گئی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کیآئینے کی ہے نہ آرسی کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- وہ گل ہیں نہ ان کی وہ ہنسی ہےدیکھو جدھر اس سی پڑی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بدعت مسنون ہو گئی ہےامت مطعون ہو گئی ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
- نالے میں کبھی اثر نہ آیااس نخل میں کچھ ثمر نہ آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
- وہ آئے نگار میں نہ مانوںآ جائے قرار میں نہ مانوںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- اک نقش خیال رو بہ رو ہےجو کچھ ہے یہ کچھ نہیں ہے تو ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میںبیٹھے ہوئے جا رہے ہیں گھر میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
- اک پردہ نشیں کی آرزو ہےدر پردہ کہیں کی آرزو ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- مجھ کو تو مرض ہے بے خودی کازاہد کو گمان ہے مے کشی کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ہستی ہے عدم مری نظر میںسوجھی ہے یہ ایک عمر بھر میںJaleel Manikpuri (1866–1946)
- یہ رنگ گلاب کی کلی کانقشہ ہے کس کی کم سنی کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دنیا میں بقا نہیں کسی کومرنا اک روز ہے سبھی کوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- عشاق میں نام ہو چکا ہےکیفیؔ بدنام ہو چکا ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- مقصد حاصل نہیں ہو یا ہوجو ہونا ہے جلد اے خدا ہوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- دیکھو تو ذرا غضب خدا کاظالم نے مجھی کو پہلے تاکاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- اب تو نہیں آسرا کسی کااللہ ہے اپنی بیکسی کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- پی ہم نے بہت شراب توبہاے گرمیٔ آفتاب توبہHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- صدمے جو کچھ ہوں دل پہ سہیےپوچھے بھی کوئی تو چپ ہی رہیےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- پی کر دو گھونٹ دیکھ زاہدکیا تجھ سے کہوں شراب کیا ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مستی کے پھر آ گئے زمانےآباد ہوئے شراب خانےHasrat Mohani (1875–1951)
- کرشنHasrat Mohani (1875–1951)
- پہلے شرما کے مار ڈالاپھر سامنے آ کے مار ڈالاBedam Warsi (1876–1936)
- ہمدردیAllama Iqbal (1877–1938)
- چاند اور تارےAllama Iqbal (1877–1938)
- انسانAllama Iqbal (1877–1938)
- ایک شامAllama Iqbal (1877–1938)
- تنہائیAllama Iqbal (1877–1938)
- دوستارےAllama Iqbal (1877–1938)
- ہر چیز ہے محوِ خود نمائیہر ذرّہ شہیدِ کبریائیAllama Iqbal (1877–1938)
- فطرت کو خِرد کے رُوبرو کرتسخیرِ مقامِ رنگ و بو کرAllama Iqbal (1877–1938)
- عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درختAllama Iqbal (1877–1938)
- جدائیAllama Iqbal (1877–1938)
- ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
- جاوید سےAllama Iqbal (1877–1938)
- ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوںمیں تیرے قریب آ رہا ہوںFani Badayuni (1879–1941)
- آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہےکالی جادو جگا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- چاہت غمزے جتا رہی ہےوحشت صحرا دکھا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- دل میں ترے اے نگار کیا ہےہوتا نہیں ہمکنار کیا ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)