Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتاآرے سے اگر چیرے تو میں اف نہیں کرتاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہممدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے باہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھنور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتادل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاقبے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخششMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گاہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہا گاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایتکیوں کر نہ کروں شوخیِ دلبر کی شکایتMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- چننے نہ دیا ایک مجھے لاکھ جھڑے پھولاللہ کرے خانۂ گلچیں میں پڑے پھولImdad Ali Bahr (1810–1878)
- محبوب خدا نے تجھے نایاب بنایاقد سرو کیا رخ گل مہتاب بنایاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- شکوہ نہ رقیبوں سے نہ جاناں سے گلا ہےمجھ کو فقط اپنی دل ناداں سے گلا ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- بلبل تو بہت ہیں گل رعنا نہیں کوئیبیمار ہزاروں ہیں مسیحا نہیں کوئیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کوجب خاک ہوا میں تو ہوا لے گئی مجھ کوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہےجینے سے خفا جان سے بے زار پڑا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارااللہ بھی حاکم بھی طرف دار تمہاراLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہےہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپرآ جائے نہ آفت کہیں دو چار کے اوپرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھیا رب نہ کبھی ہاتھ کا ہو دست نگر ہاتھPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- اے بت جو شب ہجر میں دل تھام نہ لیتےکلمہ میں بھی ہوتا تو ترا نام نہ لیتےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جلسوں میں گزرنے لگی پھر رات تمہاریاس بھیڑ میں جاتی نہ رہے بات تمہاریMunir Shikohabadi (1814–1880)
- خوبان فسوں گر سے ہم الجھا نہیں کرتےجادو گروں کی زلف میں لٹکا نہیں کرتےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتامرتے ہیں مگر ناز مسیحا نہیں اٹھتاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلےپابند ہوں پیدائش زنجیر سے پہلےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- وہ زلف ہوا سے مجھے برہم نظر آئیاڑتی ہوئی ناگن قد آدم نظر آئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
- بے وقت جو گھر سے وہ مسیحا نکل آیاگھبرا کے مرے منہ سے کلیجہ نکل آیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- عکس رخ گلگوں سے تماشا نظر آیاآئینہ انہیں پھولوں کا دونا نظر آیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھااس پیچ سے دل اپنا نکل جائے تو اچھاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیںہم دل سے بتنگ آئے ہیں اکتائے ہوئے ہیںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- پتلی کی عوض ہوں بت رعناۓ بنارساللہ پھر ان آنکھوں کو دکھلائے بنارسHatim Ali Mehr (1815–1879)
- پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارااے مہرؔ چمک جائے گا اقبال ہماراHatim Ali Mehr (1815–1879)
- ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولیکیا حال ہے امسال یہ کیا رنگ ہے ہولیHatim Ali Mehr (1815–1879)
- پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیاشب کو ہمیں خورشید درخشاں نظر آیاHatim Ali Mehr (1815–1879)
- چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہمبیٹھیں گے جنوں میں تو نہ بیکار کبھی ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
- کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گےتو دیر و حرم کیا ہے کہیں کے نہ رہیں گےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگپھر جاں سے بھڑک جسم کے میداں میں لگی آگMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- رخسار کا دے شرط نہیں بوسۂ لب سےجو جی میں ترے آئے سو دے یار مگر دےMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھےسب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- میں باغ میں ہوں طالب دیدار کسی کاگل پر ہے نظر دھیان میں رخسار کسی کاTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیںپر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیںBahram ji (1828–1895)
- آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیںدریا تیری رحمت کے یہ لہرائے ہوئے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہےکیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہےAmeer Minai (1829–1900)
- آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہےAmeer Minai (1829–1900)
- الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہوہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہوAmeer Minai (1829–1900)
- اللہ رے اس گل کی کلائی کی نزاکتبل کھا گئی جب بوجھ پڑا رنگ حنا کاAmeer Minai (1829–1900)
- پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنےروتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کواب قطع محبت ہی ہوئی جسم سے جاں کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہےاظہار محبت مجھے مقصود نہیں ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مر رہتے ہیں در پر ترے دو چار ہمیشہہے جور و جفا تجھ کو سزا وار ہمیشہJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس غم کدے سے کچھ نہ لگا ہاتھ ہمارےآہ دل سوزاں ہی چلی ساتھ ہمارےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگےاس طرح سے آئے کہ نہ آئے مرے آگےDagh Dehlvi (1831–1905)
- اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارےپاس آئے تو گھبرائے سوالوں سے ہمارےDagh Dehlvi (1831–1905)