Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- اس گل کو بھیجنا ہے مجھے خط صبا کے ہاتھاس واسطے لگا ہوں چمن کی ہوا کے ہاتھمظہر جان جاناں
- پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئےلو پھر وصال یار کے لمحے جواں ہوئےQamar Naqvi
- رنج و الم ستائے تو کہتی ہوں میں غزلفرقت جو جاں جلائے تو کہتی ہوں میں غزلUroosa Jilani
- دل کا خیال کرنے کا کس کو ملال ہےتیرے خیالی عشق کا ہم سے سوال ہےVatsal Sharma Vats
- گھٹ گھٹ کے تیرے عشق میں کتنا رہا ہوں میںاتنا کہ اپنے ساتھ بھی تنہا رہا ہوں میںVatsal Sharma Vats
- مشکل ہے کہنا شعر کا جانے بھی کوئی کیابس واہ واہ ملتی ہے مانے بھی کوئی کیاVatsal Sharma Vats
- اب درد بے دیار ہے اور جگ ہنسائی ہےاس عشق نے بھی کیسی جواں موت پائی ہےZaheer Fatehpuri
- چہرے پہ نور صبح سیہ گیسوؤں میں راتاتری تھی اک پری لئے اپنے پروں میں راتDaem Gawwasi
- آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیےرہ کر زمیں پہ کرتے ہیں بات آسماں سے ہمEhqar Jhanswi
- اک بار سامنا ہوا اور آنکھ لڑ گئیاتنی سی بات تھی مگر افسوس بڑھ گئیLateef Khan Mahfooz
- وہ غم ملا کہ اس کو سمندر بنا دیاپتھر سی آرزؤں کو گوہر بنا دیاTabassum Naz
- تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئیمیں اور ہو گیا نہ وفا اور ہو گئیوحید الہ آبادی
- کاغذ کی وادیوں میں کرے یوں سفر غزلچھو لے جبین عرش وہ تخلیق کر غزلChiraguddin Charagh
- ساقی مجھے شباب کا رسیا کہے سو ہوںمیں خود سے بے نیاز ہوں جیسا کہے سو ہوںDanish Nazeer Dani
- دیوار اختلاف کی اتنی بلند ہےرسماً بھی اب سلام و دعا ان سے بند ہےGhail Fareedi
- دنیائے دل سجاؤں اگر میرا بس چلےاپنا تمہیں بناؤں اگر میرا بس چلےHadi Rifat
- قوس قزح سے ٹوٹ کے ہر رنگ بہہ گیایہ ظلم بھی تو آسماں چپ چاپ سہہ گیاIftikhar Ahmad Iqbal
- اس نے ہمارے زخم کا کچھ یوں کیا علاجمرہم بھی گر لگایا تو کانٹوں کی نوک سےIftikhar Sagar
- عاشق کا خط ہے پڑھنا ذرا دیکھ بھال کےکاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کےLala Rakha Ram Barq
- کیا لطف زندگی کا اٹھانے لگے ہیں لوگدن میں بھی اب چراغ جلانے لگے ہیں لوگLateef Adeebi
- یادوں سے خالی دل کی یہ کن وادیوں کے بیچتنہا کھڑی ہوئی ہوں میں تنہائیوں کے بیچMah Jabeen Najm
- اب کیا ملیں حسینوں سے ہم گوشہ گیر ہیںغارت گروں نے لوٹ لیا ہے فقیر ہیںمیر طاہر علی طاہر فرخ آبادی
- ثانی نہیں ہے کوئی نہ اس کا جواب ہےمیری پسند ہے جو مرا انتخاب ہےQaisar Afghani
- اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوفڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہمUnknown
- بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھرپلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پرUnknown
- پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرااک اشک میرے صبر کی توہین کر گیاUnknown
- پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگیساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میںUnknown
- تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیںشب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیاUnknown
- چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دوجس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گےUnknown
- دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئیلیکن تمام عمر کو آرام ہو گیاUnknown
- دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیرآتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیرUnknown
- زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کریا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہوUnknown
- شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گےیہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گےUnknown
- مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کیشرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہمUnknown