کاغذ کی وادیوں میں کرے یوں سفر غزل
Chiraguddin Charaghکاغذ کی وادیوں میں کرے یوں سفر غزل
چھو لے جبین عرش وہ تخلیق کر غزل
کاغذ پہ اک حسین سا پیکر اتار لیں
تنہائی کے سفر میں رہے ہم سفر غزل
جس کے بھی قول و فعل میں یکسانیت ملے
سمجھو اسی کی آج ہے پیغامبر غزل
دست طلب سے بھیک تو ملنی نہیں تجھے
ایسا رہا خیال تو بے موت مر غزل
میرے سخن کی دوستو معراج دیکھیے
پڑھتی رہی غزل بھی مری رات بھر غزل