پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے
Qamar Naqviپھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے
لو پھر وصال یار کے لمحے جواں ہوئے
اک بات بڑھ کے باعث ناراضگی ہوئی
کچھ لفظ منہ سے نکلے تو آہ و فغاں ہوئے
تیرے سبھی دروغ وجاہت میں چھپ گئے
اور میری صاف بات پہ کتنے گماں ہوئے
کیوں کر کریں گے یاد وہ درد فراق میں
ہم اس قدر قریب بھی ان کے کہاں ہوئے
مہلت ہی کب ملی کہ سنبھل پاتے ہم قمرؔ
ہم پر تو جتنے ظلم ہوئے ناگہاں ہوئے