دنیائے دل سجاؤں اگر میرا بس چلے

Hadi Rifat

دنیائے دل سجاؤں اگر میرا بس چلے

اپنا تمہیں بناؤں اگر میرا بس چلے

ہے کوئی بات جس سے ہوں وارفتۂ خیال

تم کو نہ بھول جاؤں اگر میرا بس چلے

یہ اجنبی حیات یہ پیہم شکست دل

ہر شے کو بھول جاؤں اگر میرا بس چلے

ہر چند عرض شوق ہے پابند احتیاط

سب کچھ تمہیں سناؤں اگر میرا بس چلے

دراصل اک عذاب مسلسل ہے زندگی

دنیا سے لوٹ جاؤں اگر میرا بس چلے

میری وفا کو آپ نے تو آزما لیا

میں بھی تو آزماؤں اگر میرا بس چلے

میری تباہیوں پہ ہیں احباب خندہ زن

میں خود نہ مسکراؤں اگر میرا بس چلے

وجہ سکون زیست ہے رفعتؔ فریب دوست

پھر سے فریب کھاؤں اگر میرا بس چلے