ساقی مجھے شباب کا رسیا کہے سو ہوں

Danish Nazeer Dani

ساقی مجھے شباب کا رسیا کہے سو ہوں

میں خود سے بے نیاز ہوں جیسا کہے سو ہوں

میری ہوس کے اندروں محرومیاں ہیں دوست

واماندۂ بہار ہوں گھٹیا کہے سو ہوں

اب میں کسی کی سوچ بدلنے سے تو رہا

یہ شہر بد گماں مجھے شیدا کہے سو ہوں

تو ہی بتا میں اپنی صفائی میں کیا کہوں

تو بات بات میں مجھے جھوٹا کہے سو ہوں

دانشؔ خود احتسابی کا مجھ میں نہیں دماغ

منہ پھٹ ہوں بد مزاج ہوں دنیا کہے سو ہوں