کیا لطف زندگی کا اٹھانے لگے ہیں لوگ

Lateef Adeebi

کیا لطف زندگی کا اٹھانے لگے ہیں لوگ

دن میں بھی اب چراغ جلانے لگے ہیں لوگ

آئینہ زندگی کو دکھانے لگے ہیں لوگ

میری غزل کو سرقہ بتانے لگے ہیں لوگ

ہر جا پہ ظرف اپنا دکھانے لگے ہیں لوگ

چادر سے اپنی پاؤں بڑھانے لگے ہیں لوگ

تاریخ نو نصاب میں آئی ہے اس طرح

ماضی کے سارے نقش مٹانے لگے ہیں لوگ

مرحوم کو خطوط لکھانے لگے ہیں لوگ

امن و اماں کی پیدا ہو اس ملک میں فضا

کیوں نفرتوں کے پیڑ اگانے لگے ہیں لوگ

آئی نہ راس جب انہیں شہروں کی زندگی

صحرا کی سمت دیکھیے جانے لگے ہیں لوگ

اشعار میری غزلوں کے چھونے لگے ہیں دل

اپنے دلوں میں مجھ کو بٹھانے لگے ہیں لوگ

یہ بھی تو اے لطیفؔ سیاست کی دین ہے

سر پر گدھوں کے سینگ اگانے لگے ہیں لوگ