دل کا خیال کرنے کا کس کو ملال ہے
Vatsal Sharma Vatsدل کا خیال کرنے کا کس کو ملال ہے
تیرے خیالی عشق کا ہم سے سوال ہے
اب جنگ کے سوا نہیں آثار ہیں کوئی
آدھا جہاں نہتا ہے آدھا نڈھال ہے
دل میں تمام رنگ تھے اور ہولی جل گئی
آج آنکھ سے ہماری ٹپکتا گلال ہے
ہجراں ہے عاشقی کی حقیقت سو عشق میں
عاشق کو پر فراق یہاں کا وصال ہے
اس کے بدن پہ دیکھی ہیں بوندیں پسینے کی
کیا چاندنی پہ گر گیا موتی کا تھال ہے