اک بار سامنا ہوا اور آنکھ لڑ گئی

Lateef Khan Mahfooz

اک بار سامنا ہوا اور آنکھ لڑ گئی

اتنی سی بات تھی مگر افسوس بڑھ گئی

شرمائے وہ لجائے کبھی مسکرا دئے

بیل اپنے پیار کی یوں ہی پروان چڑھ گئی

پھر نامہ و پیام کا اک سلسلہ چھڑا

آنگن میں ہم کھڑے تھے وہ کوٹھے پہ چڑھ گئی

ہونے لگے اشارے جو ہر روز صبح و شام

یہ دیکھ کے ہماری پڑوسن بگڑ گئی

بس بنتے بنتے رہ گیا محفوظؔ اپنا کام

راضی جو اس کا باپ ہوا ماں اکڑ گئی