گھٹ گھٹ کے تیرے عشق میں کتنا رہا ہوں میں
Vatsal Sharma Vatsگھٹ گھٹ کے تیرے عشق میں کتنا رہا ہوں میں
اتنا کہ اپنے ساتھ بھی تنہا رہا ہوں میں
نا پیدا میں حیات و قضا کے بھرم سا ہوں
ہوتا رہا ہوں ساتھ میں کھوتا رہا ہوں میں
آنکھیں چراغ مفلساں سے کم نہیں مری
ہر اشک کو سنبھال کے روتا رہا ہوں میں
پھر دل چلا نہ جائے کہیں عشق دوست میں
دشمن ہی خود کو آپ کا ٹھہرا رہا ہوں میں
دل میں لگے کہ تن میں لگے آگ آگ ہے
زندہ چتا سا عشق میں جلتا رہا ہوں میں
کہتا تھا مار ڈالے گا مرنا ترا مجھے
کیسے بتاؤں تجھ کو کہ جیتا رہا ہوں میں
دیتا وجہ تو کاش مجھے ترک عشق کی
ظلم اپنے ہی خیال کے سہتا رہا ہوں میں
میں بھاگتا رہا ہوں حقیقت سے عشق کی
اور عشق کے خیال میں بیٹھا رہا ہوں میں
شعر و سخن کی راہ میں تنہائی ساتھ ہے
جو بھی یہ بولتی ہے سو دہرا رہا ہوں میں